.

مغرب ایران کو شکست نہیں دے سکتا:خامنہ ای

جوہری مذاکرات میں مغربی طاقتیں ایران کو جھکا نہیں سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ مغربی طاقتیں ایران کو جوہری مذاکرات میں گھٹنوں کے بل جھکا نہیں سکتی ہیں۔

انھوں نے یہ بات علماء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ایرانی سپریم لیڈر کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ ''جوہری ایشو پر امریکا اور یورپی کالونیل ممالک نے اکٹھے ہوکر اسلامی جمہوریہ ایران کو گھٹنوں کے بل جھکانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ ایسا کرسکے ہیں اور نہ کرسکیں گے۔

انھوں نے یہ بیان ویانا میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر مذاکرات کو یکم مارچ تک جاری رکھنے پر اتفاق رائے سامنے آنے کے بعد جاری کیا ہے۔تب تک طرفین کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اس کے چار ماہ کے بعد یعنی جون کے آخر تک ان کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے پاجائے گا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایران کے خارجہ اور داخلہ امور میں حتمی حکم کا حق حاصل ہے۔انھوں نے اب تک ایران کے مغربی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور ان کے اس بیان سے عیاں ہے کہ ان کی منظوری کے بعد ہی مذاکرات میں توسیع کی گئی ہے۔

قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک نشری بیان میں قوم کو ایران کی ایک نمایاں کامیابی کی خوش خبری دی تھی اور یہ کہا تھا کہ مذاکرات کے نتیجے میں جلد یا بدیر ڈیل طے پاجائے گی۔انھوں نے کہا کہ ''مذاکرات میں بہت سی خلیج پاٹ لی گئی ہے'' لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ''ایران اپنی جوہری صلاحیت سے دستبردار نہیں ہوگا''۔

وہ اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ یہ کَہ چکے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنا چاہتا ہے مگر اس کی جوہری ٹیکنالوجی پر بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔وہ جوہری ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور جوہری نسل پرستی کو بھی قبول نہیں کرے گا''۔

واضح رہے کہ ایران نے نومبر 2013ء میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے سمجھوتے سے اتفاق کیا تھا جس کے بعد اس پر عاید کردہ بعض عالمی قدغنیں ختم کردی گئی تھیں۔اب اس سمجھوتے کو حتمی معاہدے کی شکل دینے کے لیے ویانا میں قریباً ایک ہفتے کے مذاکرات میں طرفین کے درمیان متنازعہ امور طے نہیں ہوسکے ہیں جس کے بعد انھوں نے آیندہ سال جون تک بات چیت جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔