یمنی حکومت اور ایس ٹی سی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کریں: انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے امورخارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل ( ایس ٹی سی) کو کشیدگی میں کمی کے لیے سعودی اقدام کے تحت مذاکرات کرنے چاہییں۔
انھوں نے اتوار کو ٹویٹر پراپنے سرکاری اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ یو اے ای عرب اتحاد کے حصے کے طور پر یمن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادیمن میں امن واستحکام کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
1/3 Important that Government of Yemen & Southern Transitional Council accept & engage in Saudi initiative to reduce tension and avoid escalation. The way to move forward is through Saudi-led dialogue.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) September 1, 2019
جنوبی عبوری کونسل سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کا حصہ ہے اور وہ یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کررہی ہے لیکن حال ہی میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے جنوبی شہر اور یمنی حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ وہاں اپنی خود مختاری قائم کرنا چاہتی ہے۔
یمنی حکومت اورجنوبی عبوری کونسل کے درمیان جنگ بندی کرانے میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی ثالثی کے نتیجے ہی میں ایس ٹی سی کی فورسز نے عدن کی اہم عمارتوں اور ہوائی اڈے کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔سعودی عرب کی دعوت پر ایس ٹی سی کے سربراہ گذشتہ منگل کو ساحلی شہر جدہ پہنچے تھے ۔
یمن کی قومی حکومت کی فورسز مصالحت کے بعد عدن شہر میں داخل ہوچکی ہیں اور انھوں نے شہر کی متعدد سرکاری عمارتوں کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔سعودی عرب نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی لیکن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت نے ایس ٹی سی کے سرکاری عمارتوں سے انخلا تک مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔