یمنی حکومت اور ایس ٹی سی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کریں: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے امورخارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل ( ایس ٹی سی) کو کشیدگی میں کمی کے لیے سعودی اقدام کے تحت مذاکرات کرنے چاہییں۔

انھوں نے اتوار کو ٹویٹر پراپنے سرکاری اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ یو اے ای عرب اتحاد کے حصے کے طور پر یمن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادیمن میں امن واستحکام کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

جنوبی عبوری کونسل سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کا حصہ ہے اور وہ یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کررہی ہے لیکن حال ہی میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے جنوبی شہر اور یمنی حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ وہاں اپنی خود مختاری قائم کرنا چاہتی ہے۔

یمنی حکومت اورجنوبی عبوری کونسل کے درمیان جنگ بندی کرانے میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی ثالثی کے نتیجے ہی میں ایس ٹی سی کی فورسز نے عدن کی اہم عمارتوں اور ہوائی اڈے کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔سعودی عرب کی دعوت پر ایس ٹی سی کے سربراہ گذشتہ منگل کو ساحلی شہر جدہ پہنچے تھے ۔

یمن کی قومی حکومت کی فورسز مصالحت کے بعد عدن شہر میں داخل ہوچکی ہیں اور انھوں نے شہر کی متعدد سرکاری عمارتوں کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔سعودی عرب نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی لیکن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت نے ایس ٹی سی کے سرکاری عمارتوں سے انخلا تک مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں