ریٹائرمنٹ قانون نے فرانسیسیوں کو غصہ کیوں دلا دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جمعرات کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آرٹیکل 49.3 کا سہارا لے کر قومی اسمبلی میں بغیر ووٹ کے متنازعہ پنشن اصلاحات کے منصوبے کو منظور کرلیا اور محاذ آرائی پیدا کردی ہے۔ میکرون کے اس اقدام سے فرانس میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ بہت سی یونینز مشتعل ہوگئیں اور انہوں نے اسے جمہوریت سے انکار قرار دے دیا۔ ملک بھر میں اقدام کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ نئے مظاہرے کی اپیل کردی گئی ہے۔

"جین جوری" فاؤنڈیشن کے رائے عامہ کے ماہر اینٹون پریسٹیل نے ’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ اس اقدام کی بنا پر مظاہروں کو نئی تحریک ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسیوں کے تصور میں آرٹیکل 49.3 سفاکیت کا مترادف ہے۔ اس آرٹیکل کے متعلق یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اب حکومت کسی کی بات نہیں سنے گی۔ تاہم فرانسیسیوں کو مشتعل کرنے کے باوجود میکرون اس قانون پر کیوں قائم ہیں؟

اس قانون کے تحت ریٹائرمنٹ کی کم از کم عمر 62 سے بڑھا کر 64 کر دی جائے گی۔ پبلک سیکٹر کے کچھ کارکن اپنی مراعات سے محروم ہو جائیں گے اور مکمل پنشن کے لیے اہل ہونے کے لیے درکار کام کرنے کے سالوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ تاہم اصل میں اس اقدام کا انتخاب میکرون حکومت نے پنشن فنڈز میں مالیاتی بگاڑ اور آبادی کی بڑھتی عمر کے جواب میں کیا تھا۔

یہ اقدام موجودہ فرانسیسی صدر کے 2022 میں دوسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے منصوبے کا حصہ بنا ۔ 2019 میں اپنی پہلی مدت کے دوران ایک مختلف منصوبہ پیش کیا گیا تھا ۔ اس پہلے منصوبے میں ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کیے بغیر پیچیدہ فرانسیسی پنشن نظام کو یکجا کرنے کی بات کی گئی تھی۔ یاد رہے فرانس کے پنشن کے نظام کو سماجی تحفظ کے اس ماڈل کے سنگ بنیاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے ملک پسند کرتا ہے۔ اس نظام میں کام کرنے والی آبادی ریٹائر ہونے والوں کی پنشن کی مالی اعانت کے لیے لازمی تنخواہ کی فیس ادا کرتی ہے ۔

مغربی میڈیا کے مطابق تمام فرانسیسی کارکنوں کو سرکاری پنشن ملتی ہے۔ فرانس بھی ان یورپی ممالک میں سے ایک ہے جو ریٹائرمنٹ کے نظام کا دوسرے ملکوں سے مکمل موازنہ کیے بغیر سب سے کم ریٹائرمنٹ کی عمر کو اپنائے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 40 سالوں میں تمام متواتر صدور نے پنشن قوانین میں تبدیلیاں کرنے کی کسی نہ کسی طریقے سے سعی کی لیکن انہوں نے اکثر سڑکوں پر غصہ بھڑکایا اور ان کے لیے اس کا منفی اثر بیلٹ باکس میں بھی سامنے آیا۔

واضح رہے 19 جنوری سے اب تک ہزاروں فرانسیسی عوام نے پنشن اصلاحات کو مسترد کرنے کے لیے آٹھ مواقع پر مظاہرے کیے ہیں۔ ان مظاہروں کے باعث فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے فٹ پاتھوں کو کچرے نے ڈھانپ لیا تھا۔ احتجاج کے باعث دنیا کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک اس شہر میں ایک ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔ رائے عامہ کے مختلف جائزوں سے ظاہر ہوا کہ فرانسیسیوں کی اکثریت اس قانون کی مخالفت کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں