امریکی وزیر خارجہ کا غزہ جنگ کے حوالے سے انتظامیہ میں اختلافات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ نے پیر کو کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے بارے میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے نقطہ نظر پر وزارت خارجہ کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

’سی این این‘ نے بلینکن کا حوالہ دیتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ملازمین کو ایک ای میل میں کہا کہ"دفتر خارجہ کے کچھ ملازمین جنگ کے طریقہ کار سے اختلاف کر تے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بہت سے فلسطینی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ان کے مصائب کو کم کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم غزہ میں فلسطینی قیادت والی انتظامیہ اور مغربی کنارے کے ساتھ اس کے اتحاد پر یقین رکھتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ کی تعمیر نو کو ایک پائیدار میکانزم کے ذریعے سپورٹ کیا جانا چاہیے"۔

اس تناظر میں ویب سائٹ "ایکسیس" نے پیر کو امریکی محکمہ خارجہ کے ملازمین کی طرف سے دستخط کیے گئے ایک داخلی یادداشت کی تفصیلات کا انکشاف کیا جس میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایکسیس نے کہا کہ پانچ صفحات پر مشتمل میمو جس پر محکمہ خارجہ اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے تقریباً 100 ملازمین نے دستخط کیے ہیں سینیر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لیں اور غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔

کوئی خاص مثال فراہم کیے بغیر میمو میں بائیڈن پر "اپنی 10 اکتوبر کی تقریر میں غلط معلومات پھیلانے" کا الزام لگایا گیا ہے اور غزہ میں ہونے والی جنگ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں سوال کرنے پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

ایکسیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ میمو کا آغاز حماس کے اسرائیل پر حملے میں کیے گئے "حالیہ مظالم" کا حوالہ دیتے ہوئے ہوتا ہے جس میں 1,200 افراد جاں بحق ہوئے اور جنگ کو ہوا دی گئی، لیکن اس میموں میں اسرائیلی رد عمل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

’ایکسیس‘ کے مطابق اسرائیل کی طرف سے حملے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات، جن میں بجلی کاٹنا، امداد روکنا، اور ایسے حملے شروع کرنا شامل ہیں جو لاکھوں فلسطینیوں کی نقل مکانی کا باعث بنے ناقابل قبول ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں