برلن پولیس نے مہلک حملے کے مرکزی ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمن پولیس نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے ایک واقعے کے مرکزی مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جسے حکام نے گذشتہ رات برلن پرائیڈ پریڈ کے قریب ایک مہلک انتہا پسندانہ حملہ قرار دیا۔ یہ ملک کو نشانہ بنانے والا تازہ ترین حملہ تھا۔

ہفتے کے اوائل میں اس حملے میں ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

برلن پولیس نے ایکس پر کہا کہ انہوں نے اتوار کی شام تقریباً چھے بجے مغربی ضلع سپینڈو میں ایک الاٹمنٹ کمپلیکس میں 21 سالہ مرکزی ملزم عبدالبلوط کا سراغ لگایا تھا۔

پولیس نے کہا، ملزم "بلیڈ والے ہتھیار کے ساتھ ان کی طرف بھاگا" جس پر افسران نے فائرنگ کر کے "مشتبہ کو زخمی کر دیا اور سانس دلانے کی کوششوں کے باوجود وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔"

قبل ازیں استغاثہ نے کہا تھا کہ لبنانی نژاد جرمن شہری کئی مجرمانہ سزاؤں کے ساتھ داعش کا حامی رہا تھا جن میں تازہ ترین سزا مئی میں تھی۔

ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ

استغاثہ نے کہا کہ عبدالبلوط کو 2019 میں جسمانی ایذارسانی اور بھتہ خوری اور 2020 میں ایک ڈکیتی پر سزائیں ملی تھیں۔

نومبر میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور مئی میں "تخریبی تشدد کی سنگین کارروائی" کی تیاری کے جرم میں سزا ہونے تک قید میں رکھا گیا تھا۔

حملوں کا سلسلہ

ہفتے کے روز ہونے والے حملے نے ایسے ہی واقعات کے ایک سلسلے کی یادیں تازہ کر دیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں جرمنی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور امیگریشن پر بحث کو تقویت ملی ہے جن میں سے متعدد مجرمان کا تعلق باہر کے ممالک سے ہے۔

انتہائی دائیں بازو کے الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) سے تعلق رکھنے والے قانون ساز مارٹن ہیس نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں کی مکمل ناکامی قرار دیا۔

حالیہ برسوں میں مہلک ترین حملہ دسمبر 2016 میں ہوا جب برلن کی کرسمس مارکیٹ میں تیونس کے ایک شخص نے انتہا پسندانہ مقاصد کے ساتھ لوگوں پر ٹرک چڑھا دیا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔

گذشتہ سال کے عام انتخابات سے قبل عوامی مقامات پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں شدت پسندانہ مقاصد کے حامل حملہ آور بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں