ٹرمپ ایرانی تیل کے ٹینکر پر نمودار... ایک ایسا پیغام جس نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت(AI) کی مدد سے تیار کردہ کچھ تصاویر جاری کی ہیں جن میں وہ ایک ایرانی تیل کے ٹینکر پر کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ان تصاویر کے ساتھ لکھا "یہ اب ہمارا اپنا تیل کا ٹینکر ہے"۔

انہوں نے AI سے بنائی گئی ایک اور تصویر بھی شیئر کی جس میں خارگ جزیرے پر حملے کی تشبیہ دکھائی گئی ہے۔ خارگ جزیرہ ایرانی تیل کی برآمدات کا اہم مرکز اور ملکی معیشت کا بنیادی ستون ہے، جو جنوبی ساحل کے قریب اور تزویراتی اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز کے شمال مغرب میں چند سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بعض مبصرین نے ان تصاویر اور تحریر کو امریکی صدر کی اس خواہش کا اشارہ قرار دیا کہ اگر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے کا کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایرانی تیل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کی طرف سے ایران پر مسلسل دوسرے دن بھی اپنے حملے روکے جانے کے بعد، ایران نے اتوار کے روز خطے کے ممالک پر اپنے حملے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے کہا کہ "امریکیوں نے گذشتہ دو راتوں سے اپنے حملے روک دیے ہیں"۔ انھوں نے مزید کہا "چونکہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جیسے کو تیسا جواب دینے پر مبنی ہے، اس لیے ہم نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں"۔

اس کے مقابل اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے اتوار کے روز کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارت کاری کو ایک بار پھر "کچھ موقع" دے رہے ہیں۔

مائیک والٹز نے "فوکس نیوز" کو بتایا کہ امریکہ مزید حملوں کے لیے "مکمل تیار" ہے اور "خطے میں مزید فوجی وسائل بھیجے گئے ہیں"۔ تاہم ٹرمپ "بات چیت کو کچھ موقع دے رہے ہیں اور اس کے لیے تھوڑی سی گنجائش پیدا کر رہے ہیں"۔

واضح رہے کہ جمعے سے قبل امریکی فوج نے مسلسل 13 راتوں تک ایران کے خلاف حملے کرنے کا اعلان کیا تھا، جو اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے سب سے بڑی جنگی کارروائی تھی۔

ایران نے 7 جولائی سے دوبارہ شروع ہونے والی جنگی کارروائیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا تھا اور خطے کے ممالک پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔

آبنائے ہرمز کے گرد دوبارہ شروع ہونے والی اس جنگ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کو متاثر کیا اور توانائی کی ترسیل اور سمندری مال برداری کے لیے اس اہم راستے پر تناؤ کی وجہ سے منڈیوں میں دوبارہ بے چینی پھیلا دی۔

تاہم حالیہ نسبتاً خاموشی نے ان مذاکرات میں واپسی کی امیدیں بحال کر دی ہیں جن کے نتیجے میں گذشتہ جون کے وسط میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت طے پائی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں