.

حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے گریزاں!

تنظیم نے ہمیں یونفیل کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے: اسرائیل کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے حزب اللہ کے بالواسطہ طور پر ملنے والے مبینہ پیغام کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ لبنانی شیعہ ملیشا نے تل ابیب کو بتایا ہے کہ تنظیم کشیدگی کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتی۔ یہ پیغام کئی برسوں بعد ہونے والی شدید جھڑپوں کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعالون کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو لبنان میں قیام امن کی ذمہ دار اقوام متحدہ کی فوج کے توسط سے پیغام ملا ہے کہ حزب اللہ فی الوقت سرحدی تناٶ کو مزید بڑھانا نہیں چاہتی۔

موشے یعالون کے بقول "اقوام متحدہ کی قیام امن کی ذمہ دار فوج المعروف یونیفل اور اسرائیل کے درمیان کوارڈی نیشن موجود ہے، اسی چینل کے توسط سے ہمیں متذکرہ پیغام بھیجا گیا ہے۔"

اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر گذشتہ روز جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے میں دو اسرائیلی فوجیوں اور یونیفل دستوں میں شامل ہسپانوی فوجی کی ہلاکت کے بعد جمعرات کے روز علاقے میں قدرے سکون رہا۔

فرانس نے یو این سیکیورٹی کونسل سے اسرائیل اور لبنانی سرحد پر کشیدگی کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ اسرائیلی فوج نے قیام امن کی ذمہ دار عالمی فوج [یونیفل] کو آگاہ کیا تھا کہ وہ شبعا زرعی فارمز میں حزب اللہ کے جنگجوٶں کی کارروائیوں کے جواب میں کی جانی والی گولا باری کا سلسلہ ختم کر رہی ہے۔

لبنانی حزب اللہ نے گذشتہ روز علاقے میں ایک اسرائیلی فوجی قافلے کو نشانہ بنانے کا دعوی کرتے ہوئے اسے اٹھارہ جنوری کو اسرائیل کے اس فضائی حملے کا ردعمل قرار دیا تھا جس میں ایرانی پاسداران انقلاب کے میجر جنرل محمد اللہ دادی اور حزب اللہ کے شہید کمانڈر عماد مغنیہ کا جواں سال بیٹا چھے دیگر جنگجوٶں سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل کی شام اور لبنان کی سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔