ہمدان کے فضائی اڈے میں روس کے ساتھ تعاون جاری رہے گا : ایران
ایرانی وزیر دفاع حسین دہقان نے اتوار کے روز باور کرایا ہے کہ ان کا ملک شام میں روسی فضائی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مغربی ایران میں ہمدان کے "نوجہ" فضائی اڈے میں تہران ور روسی فضائیہ کے درمیان تعاون جاری ہے۔
دہقان نے پاسداران انقلاب کی قریبی نیوز ایجنسی "فارس نيوز" کو بتایا کہ ایران نے اپنا کوئی بھی فضائی اڈہ کسی بھی ملک کے حوالے نہیں کیا.. تاہم جہاں تک روس کا تعلق ہے تو " جب تک شام میں لڑائی کی صورت حال کا تقاضہ ہوگا تب تک تہران نوجہ کے فضائی اڈے میں روسی فضائیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا"۔
شام میں مسلح اپوزیشن اور داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہمدان کے نوجہ فضائی اڈے سے روسی طیاروں کی اُڑان کا آغاز 16 اگست 2016 بروز منگل ہوا تھا۔ تاہم امریکا سمیت عالمی برادری کی جانب سے تنقید کے بعد ایرانی عسکری حکام نے اس تعاون کو روک دینے کا اعلان کیا تھا۔
ایرانی وزیر دفاع کے مطابق ان کے ملک نے اُن روسی طیاروں کو لوجسٹک سپورٹ فراہم کی جو شام میں اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کر رہے تھے۔
ایرانی وزیر دفاع نے گزشتہ برس اگست میں روس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس نکتہ چینی کی وجہ روس کا "نوجہ" کے فضائی اڈے کو استعمال کرنے کا اعلان تھا۔ دہقان کے نزدیک روس کی جانب سے ہمدان کے اڈے سے متعلق اعلان اُس کی ناواقفیت کا اظہار کرتا ہے۔
ایران اور روس شام میں بشار الاسد کی حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک فضائی بم باری اور عسکری ملیشیاؤں (حزب اللہ اور ابو الفضل العباس) کی سپورٹ کے ذریعے مسلح اپوزیشن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
ایران نے سرکاری طور پر شام میں لڑائی میں حصہ لینے کے لیے عسکری فورسز کو بھیجنے کا بھی اعتراف کیا اور وہ ان اہل کاروں کو ہمیشہ عسکری "مشیران" قرار دینے پر مُصر رہا ہے۔ اب تک شام میں اس کے ہزاروں اہل کار مارے جا چکے ہیں۔