‏عراق : سیستانی کا ہتھیاروں کو حکومت تک محدود رکھنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں اعلی ترین شیعہ مذہبی شخصیت شیخ علی سیستانی نے زور دیا ہے کہ اسلحے کو ریاست کے قبضے تک محدود ہونا چاہیے۔ کربلا میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران اپنے ایک نمائندے کے ذریعے پہنچائے گئے پیغام میں سیساتنی کا کہنا تھا کہ تمام تر ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں ہونا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں شریک رضاکار عراقیوں کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ ہتھیاروں کو عراقی سرکاری حکام کے ہاتھوں تک محدود رکھنا یہ بین الاقوامی مطالبہ ہے۔ عراق میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ یان کوبیش نے نومبر کے اواخر میں عراق میں مختلف فیصلوں کے حوالے سے شیعہ مرجعِ اعلی سیستانی کے لیے حمایت کا اظہار کیا تھا۔ ان فیصلوں میں ہتھیار کو ریاست کے ہاتھوں تک محدود رکھنا ، شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کو انتخابات میں شریک نہ کرنا ، بدعنوان عناصر کے خلاف عدالتی کارروائی کی ضرورت اور ان سے خرد بُرد کی گئی رقوم واپس لینا اور عراقی کردستان اور اس کے عوام کے لیے آئین میں موجود تمام حقوق کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور شامل ہے۔

سیستانی نے گزشتہ برس عراقی عوام سے یک جہتی اور عدم تفرقے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "سُنّی ، شیعہ ، مسیحی اور دیگر مذاہب والے یہ سب اہلِ عراق ہیں جو اس سرزمین پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں سالوں سے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں