.

شام میں اسرائیل کے مبیّنہ فضائی حملے، ایران نواز ملیشیا کے 16 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبہ دیرالزور میں جمعرات کو فضائی حملوں میں ایران نواز ملیشیا کے 16 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق یہ فضائی حملے اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے کیے ہیں۔

ان حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی شامی حکومت نے وسطی صوبہ حمص میں ایک فوجی اڈے پر اسرائیل کے میزائل حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ مشرقی شہر المیادین کے نواح میں قلعہ الرحبہ میں فضائی بمباری میں ایران نواز عراقی ملیشیا حزب اللہ کے سات جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔عراق کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے ایک اور مشرقی شہرالبوکمال میں نو جنگجو فضائی بمباری میں مارے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں کا اسرائیل ہی ممکنہ طور پر ذمہ دار ہے اور اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو گذشتہ 24 چوبیس گھنٹے میں اسرائیل کا شام میں یہ دوسرا اور اس ہفتے میں تیسرا حملہ ہوگا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ بدھ کی شب اسرائیل کے ایک لڑاکا طیارے نے وسطی صوبہ حمص میں واقع التیفور کے فوجی اڈے پر میزائلوں سے حملہ کیا تھا لیکن شام کے فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے بیشتر میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا تھا اور وہاں گرنے والے میزائلوں سے صرف مادی نقصان ہوا تھا۔

گذشتہ سوموار کو اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایک شہری ، تین شامی فوجی اور اسد نواز ملیشیا کے سات جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔رصدگاہ نے بتایا تھا کہ دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع صوبہ درعا میں ان حملوں میں شامی فوج کے ٹھکانوں اور ایران نواز ملیشیا کے زیراستعمال تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2011ء میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے سیکڑوں فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں اور ان حملوں میں ایرانی فوجیوں ، حزب اللہ سمیت ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے شاذ ہی ان انفرادی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ البتہ اس نے تین اگست کو اس امر کی تصدیق کی تھی کہ اس نے شام کے جنوب میں لڑاکا جیٹ ، ہیلی کاپٹروں اور دوسرے طیاروں سے فضائی حملوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔