.

بشار الاسد حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی زیر غور نہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق بائیڈن حکومت شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بحال کرنے یا ان کے موجودہ اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے کسی فیصلے پر غور نہیں کر رہی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنے اتحادیوں کو بھی ایسا نہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا " اسد حکومت کی جانب سے شامی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باعث امریکا دمشق حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہا ہے اور نہ ہی ہم دوسروں کو ایسا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔"

یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب امریکی اتحادی اردن نے شام کے ساتھ سرحد کھولنےکا اعلان کیا تھا۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران ہمسایہ عرب ملک نے بشار حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تمام سرحدیں بند کر دی تھی۔

امریکی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ "ہماری نظر میں اسد حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور اس حکومت کے ساتھ امریکا کے فی الوقت تعلقات بہتر بنانے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔"

امریکی حکومت نے سنہ 2012ء میں شام کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرتے ہوئے شام سے تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت کے دوران پچھلے سال جون میں بشار الاسد اور ان کے قریبی عزیزوں اور دوستوں پر سخت پابندیوں کا اطلاق کیا گیا تھا تاکہ شام کو اقوام متحدہ کی صدارت میں ہونے والے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کیا جاسکے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں جاری جنگ کے دوران کم از کم ساڑھے تین لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں اور امریکا کی اتحادی عرب ریاستوں نے اس جنگ میں بشار الاسد کے مخالف گروپوں کی حمایت کی تھی۔

اس سے قبل جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران شام اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان دس سال میں پہلی ملاقات کا انعقاد ہوا۔اس کے علاوہ لبنان اور اردن کے حکام نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ شام پر مسلط پابندیوں میں نرمی کردے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ "ہمیں یقین ہے کہ شام اور خطے میں استحکام تمام شامی عوام پر مشتمل سیاسی عمل کے نتیجے میں ہی آ سکتا ہے اور ہم اپنے اتحادیوں، پارٹنرز اور اقوام متحدہ کے ساتھ ملک کر سیاسی حل کے لئے کام کرنے میں مصروف ہیں۔"