مظاہروں کی امریکی حمایت ہمارے معاملات میں مداخلت ہے: ایران

ایون جیل میں امریکیوں کی حفاظت کا ذمہ دار ایران ہے: واشنگٹن کی تہران کو تنبیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے حکومت مخالف مظاہروں کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی حمایت کو مسترد کرنے کا اعلان کردیا۔ اتوار کے روز سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ایران نے امریکی حمایت کو "ریاست کے معاملات میں مداخلت" قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا "ایران میں حالیہ مظاہروں کے آغاز کے بعد سے امریکی صدر نے بار بار مداخلت کرنے والے بیانات کے ذریعے ایران میں بدامنی کی حمایت کی ہے۔ چونکہ بائیڈن کے پاس قابل اعتماد مشیر نہیں اور ان کی یادداشت اچھی نہیں لہذا میں انہیں یاد دلاتا ہوں کہ ایران اتنا مضبوط اور ثابت قدم ہے کہ وہ آپ کی سخت سزاؤں اور مضحکہ خیز دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکا ہے۔‘‘

تسنیم خبر ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید کہا "آپ گندے پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے عادی ہیں، لیکن یاد رکھیں، یہ ایران ہے، جو قابل فخر مردوں اور عورتوں کی سرزمین ہے۔"

واضح رہے گزشتہ ہفتے امریکی صدر بائیڈن نے ایران میں پرامن مظاہرین کے "کچلنے" کی رپورٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ واشنگٹن سول سوسائٹی کو دبانے کے لیے تشدد کے استعمال میں ملوث ایرانی حکام اور اداروں کو جوابدہ ٹھہرائے گا۔

بائیڈن نے اپنے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں پر اپنی حیرانی کا اظہار بھی کیا تھا۔

امریکی صدر جوبائیڈن
امریکی صدر جوبائیڈن

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ جیل میں بدامنی اور آگ لگنے کے بعد ایون جیل میں قید امریکی شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اتوار 16 اکتوبر کو ایک ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ "ایران ہمارے بے گناہ حراست میں لیے گئے شہریوں کی حفاظت کا مکمل ذمہ دار ہے۔ ان افراد کو فوری رہا کیا جانا چاہیے۔ واشنگٹن واقعہ کی رپورٹس کی فوری پیروی کر رہا ہے۔

خیال رہے ہفتے کے روز تہران کی ایون جیل میں آگ لگ گئی تھی، اس جیل میں بہت سے سیاسی قیدی اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد قید ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں