شہزادی کرسٹینا سمیت سترہ افراد کے خلاف ٹیکس فراڈ پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ہسپانوی شہزادی کرسٹینا کو ٹیکس فراڈ پر مقدمے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین کے بادشاہ فلپ ششم کی بہن کرسٹینا ڈی بوربون کو ٹیکس فراڈ پر مقدمے کا سامنا ہے اور وہ شاہی خاندان کی پہلی شخصیت ہیں جن کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

شہزادی کے والد ہوان کارلوس اسی سال جون میں مختلف اسکینڈلوں کے بعد تخت شاہی سے دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے اقتدار اپنے بیٹے فلپ کے حوالے کردیا تھا۔شہزادی کرسٹینا کے خاوند ہینڈبال کے سابق اولمپک کھلاڑی اناکی اردینجینرین کے خلاف بھی سرکاری فنڈز میں خردبرد کے الزام میں تحقیقات کی جارہی ہے۔

انچاس سالہ شہزادی کرسٹینا اور ان کے خاوند کے خیراتی ادارے نوس فاؤنڈیشن سے متعلق کیس میں ان سمیت سترہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔جزیرے بالئیرک کی ہائی کورٹ نے سوموار کو ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔تاہم اس جوڑے نے کسی غلط روی کی تردید کی ہے۔

اردینجینرین پر قانونی ڈیوٹی کی خلاف ورزی ،سرکاری فنڈز میں خرد برد،ناجائز کام کروانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔شہزادی پر ٹیکس کے دو جرائم کی مرتکبہ ہونے کا الزام ہے۔

عدالت نے اس جوڑے کو لوٹی گئی رقوم سرکاری خزانے میں واپس جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔شہزادی کرسٹینا کو چھبیس لاکھ یورو (بتیس لاکھ ڈالرز) اور اردینجینرین کو قریباً ڈیڑھ کروڑ یورو جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت کے تحریری حکم کے مطابق وہ آیندہ بیس روز میں مذکورہ رقوم جمع کراسکتے ہیں۔دوسری صورت میں ان کے اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ سپین کے نوجوان بادشاہ فلپ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بہت مقبول ہیں۔انھوں نے بادشاہت کو جدید بنانے کی کوشش کی ہے اور اپنی دونوں بہنوں کو حاصل حقوق واپس لینے کے لیے اقدامات کیے ہیں کیونکہ وہ دونوں اب باضابطہ طور پر شاہی خاندان کا حصہ نہیں رہی ہیں۔کرسٹینا تخت شاہی کے امیدواروں میں چھٹے نمبر پر ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں