دل کی صحت سے مطمئن ہونے کی چھ بنیادی علامات
یہ جاننے کے لیے کہ آیا دل صحیح طریقے سے کام کر رہا ہے یا نہیں، بعض علامات کو بغیر طویل طبی معائنے کے بھی جانچا جا سکتا ہے۔
ماہرین دل کے مطابق جسم بعض اوقات ابتدائی علامات ظاہر کرتا ہے، جو روزمرہ کی سادہ سی نشانیاں ہوتی ہیں اور دل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسا کہ ٹائمز آف انڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔
اگرچہ یہ علامات طبی ٹیسٹ کا متبادل نہیں، تاہم یہ دل کی صحت کی نگرانی کے لیے ایک آسان طریقہ فراہم کرتی ہیں، کیونکہ یہ نشانیاں قابلِ بھروسا اور سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں۔ ان علامات میں شامل ہیں:
آرام کی حالت میں دل کی دھڑکن
ایک پرسکون دل عموماً مضبوط ہوتا ہے۔صحت مند دل کی دھڑکن آرام کی حالت میں 60فیصد80 دھڑکن فی منٹ ہوتی ہے۔اگر دھڑکن بہت زیادہ یا غیر معمولی ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
سیڑھی چڑھنے کی صلاحیت
اگر آپ بغیر سانس پھولنے یا سینے میں دباؤ کے آسانی کے ساتھ ایک منزل کی سیڑھی چڑھ سکتے ہیں ، تو یہ دل اور خون کی روانی کی اچھی نشانی ہے۔اگر سانس لینے میں دشواری یا سینے میں دباؤ محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
بلڈ پریشر
نارمل بلڈ پریشر تقریباً 120/80 mmHg ہوتا ہے۔زیادہ بلڈ پریشر دل اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔اچانک تبدیلی یا مسلسل زیادہ ریڈنگ پر توجہ دیں اور ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اچھی نیند اور توانائی کے ساتھ جاگنا
نیند کے دوران سانس لینے میں دشواری یا زیادہ تکیے استعمال کرنا دل کی ممکنہ پریشانی کی علامت ہو سکتی ہے۔اچھی اور پرسکون نیند دل کو مناسب آکسیجن فراہم کرتی ہے اور جسم کے ریتھم کو برقرار رکھتی ہے۔شدید یا مسلسل خراٹے اور سانس رکنے کی شکایت دل کی بیماریوں کے خطرے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
توانائی کی مستقل سطح
صحت مند دل جسم کو مناسب آکسیجن اور غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے، جس سے توانائی متوازن رہتی ہے۔اگر معمولی کام کے بعد بہت زیادہ تھکن محسوس ہو یا اچانک تھکن آ جائے، تو دل کی جانچ کرائیں۔
نارمل کولیسٹرول اور خون کی شوگر
مناسب کولیسٹرول اور خون کی شوگر دل کی صحت کے اہم اشارے ہیں۔زیادہ کولیسٹرول خون کی نالیوں کو تنگ کر سکتا ہے اور زیادہ شوگر وقت کے ساتھ نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔