اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے چیف تجزیہ کار بریگیڈئیر جنرل ایتائی برن۔
ایران جوہری ڈیل کے بارے میں سنجیدہ ہے:اسرائیلی جنرل
ایران چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ عبوری جوہری سمجھوتے کی پاسداری کررہا ہے
اسرائیل کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدے دار نے اپنے تئیں انکشاف کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ حتمی معاہدہ طے کرنے کے لیے سنجیدگی سے مذاکرات کررہا ہے۔
اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے چیف تجزیہ کار بریگیڈئیر جنرل ایتائی برن نے سوموار کو تل ابیب کے نزدیک منعقدہ سالانہ ہرزلیہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ایران نومبر میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگانے کے لیے طے پائے عبوری سمجھوتے کی پاس داری کررہا ہے''۔
مسٹر ایتائی برن نے کہا:''اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان اسی سال کے دوران کسی وقت مستقل جوہری معاہدہ طے پاجائے گا اور وہ اس پر دستخط کردیں گے''۔
انھوں نے کہا کہ ''اس دوران ایران اپنے اقتصادی بحران کی وجہ سے عبوری سمجھوتے کی پاسداری کررہا ہے اور وہ مستقل سمجھوتے کے لیے سنجیدہ ذہن کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے''۔
واضح رہے کہ صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ سال نومبر میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان عبوری سمجھوتے کو ایک تاریخی غلطی قرار دے کر اس کی مذمت کی تھی۔ایران اب 20 جولائی کی ڈیڈلائن سے قبل امریکا ،روس ،چین ،فرانس ،برطانیہ اور جرمنی کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے بات چیت کررہا ہے۔
صہیونی وزیراعظم کی مخالفت کے برعکس اسرائیلی فوجی عہدے دار ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات اور مجوزہ معاہدے کے حوالے سے مثبت نقطہ نظر کا اظہار کررہے ہیں۔ جنوری میں اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل عامر ایشل نے کہا تھا کہ ایران کی سفارت کاری بظاہر مثبت سمت کی جانب جارہی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیل کی سیاسی قیادت ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان عبوری سمجھوتے کے بعد اب مستقل معاہدے کے بارے میں بھی اپنے شکوک کا اظہار کررہی ہے۔اسرائیل کے جوہری امور کے وزیر اور نیتن یاہو کے بااعتماد ساتھی یووال اسٹینٹنز نے اسی ہرزلیہ کانفرنس میں کہا ہے:''ایک اچھا سمجھوتا یہ ہوسکتا ہے کہ ایران سویڈن ،جنوبی کوریا یا سپین کی طرح سویلین جوہری پروگرام رکھ سکتا ہے لیکن وہ یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت یا پلوٹونیم کے حصول کے بغیر ہی ایسا کرسکتا ہے''۔
ان کا کہنا تھا:''اسرائیل اس بات کو ترجیح دے گا کہ جولائی کی ڈیڈلائن ایسے ہی کسی برے سمجھوتے کے بغیر گزر جائے۔ایسا برا سمجھوتا جس کے تحت ایران چند ماہ کے اندر ہی جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے''۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عبوری سمجھوتے کی محض اس بنا پر مخالفت کی تھی کیونکہ اس میں بہت سے سقم پائے جاتے تھے۔
اسی بارے میں
-
ایران میں سرگرم 55 کمپنیوں پر اسرائیل سے تعلقات کا الزام -
ایران اور شمالی کوریا بدمعاش ریاستیں ہیں: بنجمن نیتن یاہو -
ایران کو غیر قانونی اسلحہ فروخت کرنے پر اسرائیلی گرفتار -
کسی سے جنگ نہیں چاہتے، مکالمے کے حامی ہیں: روحانی -
"ایران جوہری سمجھوتے کی پاسداری کر رہا ہے" -
ایران: جوہری بم بنانے کی صلاحیت متاثر ہو گئی