کسی سے جنگ نہیں چاہتے، مکالمے کے حامی ہیں: روحانی
پچھلے دوسو سال سے ایران نے کسی پر حملہ نہیں کیا
ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، لیکن اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔ صدر روحانی نے اس امر کا اظہار جمعہ کے روز ایک فوجی پریڈ سے خطاب کے دوران کیا ہے۔
انہوں نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاملے پر مستقل معاہدے کیلیے جاری مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا '' پڑوسیوں کو علم ہونا چاہیے کہ ایرانی فوج خطے میں استحکام چاہتی ہے۔'' ان کا مزید کہنا تھا'' جیسا کہ ہم نے جوہری مذاکرات کے دوران بھی بتا دیا ہے کہ ہم جنگ چاہتے ہیں نہ کسی پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔''
اس عسکری تقریب کے دوران ایرانی جنگی طیاروں کی پروازوں کے علاوہ ایرانی میزائلوں کی متحرک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ روحانی کا لہجہ واضح طور پر اپنے پیش رو صدر احمدی نژاد سے مختلف تھا۔ احمدی نژاد عام طور پر اسرائیل کو نشانہ بنایا کرتے تھے، اس کے مقابلے میں صدر روحانی نے کہا '' ہم استدلال اور مکالمے پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔''
ڈاکٹر روحانی نے کہا '' گزشتہ دو صدیاں گواہ ہیں کہ ایران نے کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا ہےبلکہ ہمیں جارحیت کا سامنا رہا ہے۔ واضح رہے پچھلے سال جون میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے صدر روحانی نے خود کو ایک اعتدال پسند کے طور پر پیش کیا ہے
-
ایران جوہری معاملے پر تعمیری مذاکرات چاہتا ہے: حسن روحانی
ایرانی قوم کیخلاف کچھ نہیں ہونے جا رہا، ایسا سمجھنے والے چشمے بدل لیں
مشرق وسطی -
دنیا کے ساتھ تعلقات کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ایرانی صدر
حسن روحانی کی ایرانی طلبہ سے جوہری معاہدے پر گفتگو
مشرق وسطی -
ایران دھمکیوں اور پابندیوں سے مرعوب نہیں ہو گا: حسن روحانی
ایرانی جوہری تنازع پر جنیوا مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے
بين الاقوامى