russia
عراقی صورتحال پر خاموش نہیں بیٹھیں گے: روس
عراقی ریاست کو خطرات لاحق ہیں: نائب وزیر خارجہ ریاب کوف
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریاب کوف نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک شام کے پڑوسی ملک عراق میں جہادیوں کی سرگرمیوں کے بڑھ جانے کے بارے میں خاموش نہیں بیٹھا رہے گا۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے اس امر کا اظہار دمشق میں صدر بشارالاسد کے ساتھ ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔
واضح رہے سنی عسکریت پسند داعش کے نام سے دونوں ملکوں شام اور عراق میں ان دنوں بڑے حصے پر قابض ہو رہے ہیں۔ داعش نے عراق میں دو ہفتے قبل شروع کردہ اپنی حالیہ جنگی مہم کے دوران بغداد کے شمال اور مغرب میں کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
روس اسد رجیم کا سب سے بڑا حامی ہے، اس کے نائب وزیر خارجہ نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ ان کا ملک اس ناطے کیا اقدامات کر سکتا ہے۔
تاہم روس کے اعلی سفارتکار نے عراق میں صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا '' عراقی ریاست سخت خطرے کی زد میں ہے۔''
ریاب کوف نے اس بارے میں روسی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا'' شام اور عراق کے بحرانوں کا حل ایک حقیقی مکالمے کے ذریعے نکلنا چاہیے۔''
اس سوال پر کہ امریکا شام کے اعتدال پسند باغیوں کی مدد کا فیصلہ کیے ہوئے ہے انہوں نے کہا '' مسئلے کے سیاسی حل کا کچھ اور متبادل نہیں ہو سکتا ہے، اس لیے ہم امریکی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں، امریکا سمیت ہر ایک کا مفاد اس میں ہے کہ شام کے حوالے سے ذمہ دارانہ انداز اختیار کیا جائے۔''
خیال رہے امریکی صدر اوباما نے قانون سازوں سے شامی باغیوں کی امداد کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی منظوری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔