100 dollar bills
ایران نے بیرونی تجارت میں ڈالر کا لین دین بند کر دیا
ایرانی سنٹرل بینک کے ڈپٹی گورنر جنرل غلام علی کامیاب کا کہنا ہے کہ ان کا ملک نے اپنی بیرونی تجارت میں ڈالر کا لین دین ترک کر دیا ہے۔
ایرانی سیکیورٹی اداروں کی مقرب خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' نے مسٹر کامیاب کا بیان نقل کیا ہے کہ "تہران دوسرے ملکوں کے ساتھ باہمی تجارت میں ڈالر کے بجائے یورو، ترک لیرا، روسی روبل سمیت چین اور کوریا کی کرنسی استعمال کر رہا ہے۔"
غلام علی کامیاب نے بتایا کہ ایران کا متعدد ملکوں کے ساتھ آسان شرائط پر مبنی ہاہمی تجارت کے معاہدے کرنے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں باقاعدہ معاہدوں کے لئے مذاکرات کا سلسلہ جلد شروع ہو گا۔
حالیہ چند مہینوں کے دوران ایرانی کرنسی تومان کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہت زیادہ گر چکی ہے۔ نیز ایران کے ایٹمی پروگرام کے باعث عاید پابندیوں کی وجہ سے اسے اپنا تیل اور دوسری چیزوں کی درآمد کے بدلے رقوم حاصل کرنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسی بارے میں
-
ایرانی کرنسی اور آٹو موبیل کا شعبہ امریکی پابندیوں کا ہدف -
ایران پر نئی پابندیاں رکوانے میں اوباما کامیاب -
یورپی یونین ایران پر عائد پابندیاں دسمبر میں واپس لے گی -
یورپی یونین نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کردیں -
یورپی یونین ایران کی تیل اور گیس کی صنعت پر نئی پابندیاں عاید -
یورپی یونین: ایران کے خلاف پرانی پابندیاں بحال رکھنے کی تیاری