ایران پر نئی پابندیاں رکوانے میں اوباما کامیاب

سینیٹ کے ارکان نے فی الوقت پابندیوں کو غیر ضروری قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر براک اوباما کانگریس کی طرف سے ایران کیخلاف نئی پابندیوں کی منظوری روکنے میں فی الحال کامیاب نظر آتے ہیں۔ اس کامیابی کی سب سے اہم وجہ اوباما انتظامیہ کا ان کوششوں کی مخالفت کیلیے کھل کر سامنے آجانا اور صدرکا بل کو منظوری کی صورت میں ویٹو کر دینے کا انتباہ بنا ہے۔ ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے صدر کی ممکنہ سبکی کا احساس کرتے ہوئے اپنی رائے کے استعمال سے گریز کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔

قبل ازیں وہ ایران کیخلاف مزید پابندیوں کےلیے غیر معمولی کمٹڈ تھے۔ اس میں کچھ حصہ براک اوباما کے سٹیٹ آف یونین خطاب کا بھی ہے جس میں انہوں نے ایک طرف ایران کے ساتھ ہونے والے ابتدائی جوہری معاہدے کا حوالہ دیا، شام میں ایران کیطرف سے دہشت گردی کی حمایت پر نظر رکھنے کا کہا اور یہ بھی باور کرا دیا کہ ملکی مفاد میں وہ بطور صدر اپنے ویٹو کااختیار کرنے کا حق بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

کانگریس کے ارکان کے حوالے سے اس تبدیلی کی ایک وجہ سے بھی آئی ہے کہ اس بل کو لانے والے اس کی حمایت کا اندازہ کر لینا چاہتے ہیں تاکہ منظوری ہوتو اسے صدارتی ویٹوبھی رد نہ کرسکے ۔ اس سلسلے میں سینیر رچرڈ ملومنتھال کا کہنا ہے کہ '' میرے خیال میں ٹھیک اسی وقت پابندیوں کے حق میں ووٹ آنا غیر ضروری ہے، الا یہ کہ اس حوالے سے بامعنی اور نطر انے والی پیش رفت ممکن نہ ہو۔

ڈیمو کریٹ سینیٹر کونز نے کہا '' ایران پر پابندیاں عاید کرنے کیلیے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔''سینیٹ کے ایک اور ڈیموکریٹ رکن جوئے مناکین نے توقع ظاہر کی ہے کہ سینیٹ میں اکثریتی لیڈر ہیری ریڈ پابندیوں کا بل سامنے نہیں لائیں گے۔'' ان کا مزید کہنا تھا ''میں نے اس بل پر دستخط اس لیے نہیں کیے تھے کہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے لایا جائے گا جب ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہوں گے، میں نے دستخط اس لیے کیے تھے کہ کے صدر کے ہاتھ مضبوط رہیں اور وہ ایران کو دکھانا چاہیں کہ ہم اس بارے میں کس قدر سخت ہیں تو وہ ایسا کر سکیں۔''

اس صورت حال میں وائٹ ہاوس نے ایک ایسی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے خواہشمندوں کی رائے متاثر ہوئی ہے۔ وائٹ ہاوس کو خوف تھا کہ نئے پابندیوں کے بل کی وجہ سے سفارتکاری ناکام ہو سکتی ہے۔

اس دوران سینیٹ میں اکثریت کے حامل سینیٹر ریڈ کو ڈیموکریٹس کی طرف سے ایک خط لکھا گیا۔ جس میں اس معاملے کو ملتوی کرنے کیلیے کہا گیا۔ ایسا ہی ایک خط خارجہ امور کے ماہرین کی جانب سے بھی لکھا گیا تھا۔

ایران پر نئی پابندیوں کیخلاف امریکی عملا یہ میدان مار چکے ہیں، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہوکی ماہ مارچ میں امریکا اسرائیل پبلک افئیر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلیے آئیں گے تو یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر نمایاں ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں