From left, Iranian Foreign Minister Javad Zarifa, Russian Deputy Political Director Alexey Karpov, British Foreign Secretary Philip Hammond and US Secretary of State John Kerry arrive the Ecole Polytechnique Federale De Lausanne after Iran nuclear program ta
ایرانی جوہری معاہدے کے فریم ورک کا امریکی خیر مقدم
سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے طویل سلسلے کے بعد ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس اتفاق رائے کا امریکی صدر براک اوباما نے خیر مقدم کیا ہے۔
معاہدے کے تحت ایران اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں کمی لائے گا جس کے بدلے میں اس پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔ ایران، امریکا اور جرمنی نے کہا ہے کہ آٹھ روز کی گفت و شنید کے بعد اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔
جامع جوہری معاہدہ 30 جون تک تشکیل دے دیا جائے گا۔
اتفاقِ رائے کے اعلان کے تھوڑی دیر بعد امریکی صدر براک اوباما نے اپنے خطاب میں اس ’تاریخی معاہدے‘ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے عمل درآمد پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور ’اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو دنیا جان جائے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اعتماد پر نہیں بلکہ ’غیر معمولی تصدیق‘ کے عمل پر قائم کیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ فریم ورک پر مہینوں کے ’سخت اور اصولی سفارت کاری کے بعد اتفاق ہوا ہے اور یہ کہ یہ ’ایک عمدہ معاہدہ ہے۔‘
امریکا کے مطابق اس معاہدے کے خاکے میں درج ذیل شرائط شامل ہیں:
ایران اپنے سینٹری فیوجوں میں دو تہائی کمی لائے گا اور اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیئم کو بھی کم کرے گا
ایران کے فالتو سینٹری فیوج اور افزدوگی کی تنصیبات پر عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی [آئی اے ای اے] نظر رکھے گا
آئی اے ای اے ایران کی تمام جوہری تنصیبات کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی رہے گی
ایران اپنے ارک میں واقع بھاری پانی کے ری ایکٹر میں ایسی تبدیلیاں کرے گا کہ وہاں ہتھیار بنانے کے اہل پلوٹونیئم نہ بنایا جا سکے
ایران پر عائد امریکا اور یورپی یونین کی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، لیکن اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو انھیں دوبارہ عائد کر دیا جائے گا
اس معاہدے پر عمل درآمد کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو دنیا جان جائے گی۔
ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مغربی ممالک نے ایران کی جانب سے جوہری بم بنانے کے خدشے کے پیشِ نظر اس پر سنگین پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ایران مذاکرات کے ذریعے ان پابندیاں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایران نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزین میں پی پلس فائیو سے مذاکرات کیے۔ یہ ممالک کا ایک گروہ ہے جس میں امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، چین، روس کے علاوہ جرمنی شامل ہیں۔ یہ مذاکرات 31 مارچ کو ختم ہو جانا چاہیے تھے لیکن بعد میں ان کی حتمی مہلت میں توسیع کرنا پڑی۔
ادھر سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا: ’حل تلاش کر لیا گیا ہے، فوری طور پر مسودے پر کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
تاہم اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹوئٹر ہی پر کہا: ’کوئی بھی معاہدہ ہو، اس میں ایران کے جوہری پروگرام کی صلاحیتوں کو خاصی حد تک رول بیک کرنا اور اس کی دہشت گردی اور جارحیت کو ختم کرنا لازمی ہو گا۔‘
اسی بارے میں
-
ایران جوہری ڈیل کا استحقاق نہیں رکھتا:سعودالفیصل -
ایران نے جوہری تنازع پر تین نکاتی فارمولے کی ایک تجویز مسترد کردی -
ایران نے کرنسی نوٹوں سے جوہری پروگرام کا لوگو مٹانا شروع کردیا -
ایران کا 10 سال کے لیے جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کا عندیہ -
کانگریس ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے میں ’آخری رکاوٹ‘ -
ایران کے جوہری تنازعے پر مذاکرات میں جون 2015ء تک توسیع