AP an Israeli flag is seen in front of the West Bank Jewish settlement of Maaleh Adumim on the outskirts of Jerusalem

اسرائیل کی جارح آبادکاری پر امریکا کی مذمت

بین الاقوامی دبائو کے باوجود یہودی بستی میں توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں فلسطینی سرزمین پر قائم کردہ یہودی بستیوں مِیں توسیع کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں مزید رکاوٹیں آئیں گی۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے دسمبر کے اواخر میں غرب اردن میں بنائی جانے والی یہودی بستی غوش عتصیون میں ایک کمپائونڈ کے اضافے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہنا ہے کہ "اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں میں مسلسل توسیع اور اضافے سے اسرائیل کے طویل المدت عزائم کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں اور ان اقدامات کی بدولت دو قومی حل کی راہ بھی مشکلات سے بھر گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے اقدام سے مغربی کنارے کی 10 ایکڑ زمین پر نئی یہودی بستی قائم ہوجائے گی۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری مذاکرات 2014ء میں یہودی بستیوں کے معاملے پر ڈیڈلاک کا شکار ہو کر ناکام ہوگئے تھے۔

غوش عتصیون کا یہ نیا کمپائونڈ جنوبی حصے میں واقع ہے جہاں پر ماضی میں فلسطینی مظاہرین نے یہودی شہریوں اور پولیس والوں کے خلاف متعدد حملے کئے ہیں۔

اسرائیلی آبادکاری مہم کی مخالف تنظیم 'پیس نائو' کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ آبادکاروں یہ کمپائونڈ سویڈن میں قائم ایک چرچ سے قانون کے تحت خریدا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے کہ اس کمپائونڈ میں لوگ کب منتقل ہوں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں