ایتھوپیا کے ہزاروں یہودیوں کی اسرائیل میں آبادکاری منظور
اسرائیلی حکومت نے یہودی سلسلہ نسب سے تعلق کے دعویدار ہزاروں ایتھوپیائی یہودیوں کو صہیونی ریاست میں بسانے کی منظوری دے دی ہے۔ دو سال قبل یہ دعوی سامنے آیا تھا کہ ایتھوپیا میں کوئی یہودی باقی نہیں رہا۔
ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بتایا کہ "ہم نے ایتھوپیا میں یہودی نسل سے تعلق رکھنے والی آخری لڑی کو اسرائیل میں اپنے ہم عقیدہ ساتھیوں سے ملانے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔"
اسرائیل نے 1984 سے 1991 کی مدت کے دوران ہزاروں ایتھوپیائی یہودیوں کو 'قانون حق واپسی' کے تحت اسرائیل لا کر آباد کیا۔ قانون حق واپسی کے تحت اسرائیل آنے والے تمام یہودیوں کو اسرائیلی شہریت دی گئی۔
اتوار کے روز کئے جانے والے اسرائیلی فیصلے سے ایتھوپیا میں فلاش مرا نامی گروہ کے وہ یہودی مستفید ہوں گے جنہوں نے 18 ویں اور ۱۹ویں صدی کے دوران اکراہ کے تحت یہودیت ترک کر کے عیسائیت قبول کی۔
یہ لوگ یہودی نہ ہونے کی بنا پر اسرائیلی شہریت کے اہل نہیں، تاہم ان کے متعدد رشتہ دار پہلے ہی اسرائیل میں مقیم ہیں۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آرتھوڈکس چیف ربینٹ کی سرپرستی میں اس کمیونٹی کے آخری ممبران کو اگلے پانچ برسوں تک اسرائیل آنے کی اجازت ہو گی۔
اسرائیلی وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ 'اس برادری کا آخری رکن' آئندہ پانچ برسوں تک اسرائیل منتقل کر دیا جائے گا۔ انہیں قدامت پسند چیف ربی دوبارہ یہودیت میں داخل کرائیں گے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ۹۱۰۰ ایسے افراد ایتھوپیا کے شہروں ادیس بابا اور گوندار کے کیمپوں میں اسرائیل داخلے کی اجازت کے منتظر ہیں۔
اسرائیل کے 138500 یہودی ایتھوپیئن نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک یہودی ایجنسی کے مطابق ان میں ۹۲۰۰۰ کو اسرائیل لا کر آباد کیا گیا۔ یہودی ایجنسی کے ترجمان آوی میئر نے بتایا کہ "ہمارے ماہرین نے باقی ماندہ خاندانوں کی اسرائیلی منتقلی کا جامع مںصوبہ بنایا ہے۔
اگلے چند دنوں میں منظوری کے بعد منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
ایتھوپیا سے آ کر اسرائیل میں آباد ہونے والے یہودیوں کو پولیس کے وحشیانہ تشدد، نسلی امتیاز کا سامنا رہتا ہے۔ ہزاروں افراد اس سلوک کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔
متعدد ایتھوپئین اسرائیلی خاندان صہیونی ریاست کے بڑے شہروں کے غریب ترین علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان میں ایک تہائی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے اور معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہے۔