ایرانی صدر کے نائب اوّل اسحاق جہانگیری۔

ایران: احمدی نژاد کے خلاف بدعنوانی کا نیا اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر کے نائب اوّل اسحاق جہانگیری نے سابق صدر احمدی نژاد کے خلاف بدعنوانی کے ایک نئے اسکینڈل کا انکشاف کیا ہے جس میں ان پر ایرانی مرکزی بینک سے 3 کروڑ ڈالر چرانے کا الزام ہے۔

انہوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ "احمدی نژاد کی صدارت میں گزشتہ حکومت نے بیرون ملک ایک ریاست سے 13 کروڑ ڈالر منگوائے تھے۔ تاہم جب طیارہ یہ رقم لے کر تہران کے ہوئی اڈے پر اترا تو معلوم ہوا کہ اس میں صرف 10 کروڑ ڈالر ہیں۔ ہمیں آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ 3 کروڑ ڈالر کہاں گئے؟"

شمالی ایران کے صوبے قزوین میں ذمہ داران کے سامنے ہفتہ حکومت کے دوران گفتگو میں جہانگیری نے باور کرایا کہ "یہ رقم اس وقت چرائی گئی جب سابقہ حکومت کے دور میں بین الاقوامی پابندیوں میں کئی گناہ اضافہ ہوچکا تھا۔ جب ہم نے ان 3 کروڑ ڈالر کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا کہ یہ رقم کھو گئی اور آج تک اس کا پتہ نہ چل سکا۔"

یہ بیان احمدی نژاد کے حامیوں کی جانب سے موجودہ صدر حسن روحانی کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے بعد سامنے آیا ہے۔ روحانی نے ان دنوں خود انسداد بدعنوانی کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کے خزانے سے 70 ارب ڈالر کے غبن کی کارروائیوں کے انکشاف کے بعد سابقہ حکومت کے درجنوں سینئر ذمہ داران اور ان سے متعلقہ کاروباری شخصیات کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس کے مقابل روحانی کو ان کی حکومت میں اہل کاروں کی بے تحاشہ تنخواہوں کے اسکینڈل کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ یہ اہل کار معمول کی تنخواہ سے دسیوں گنا زیادہ تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اور ان کی ماہانہ تنخواہوں کا مجموعی حجم 70 سے 80 کروڑ ایرانی ریال ہے۔

ایرانی صدر نے اس اسکینڈل سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے کئی اعلی اہل کاروں کو برطرف کیا اور حکومت نے سرکاری طور پر معذرت بھی پیش کی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں