In a still image taken from footage broadcast by the UK Parliamentary Recording Unit (PRU) on February 8, 2017 members of parliament filter back into the House of Commons from the lobby during the process of voting on proposed ammendments to the Article 50 Withdrawl from the European Union Bill in central London on February 8, 2017
برطانوی دارالعوام کا یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ
برطانیہ نے یورپی یونین سے اخراج کا ایک اور سنگ میل طے کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے بھی اس کی منظوری حاصل کرلی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی دارالعوام کی جانب سے بھی ’بریگزٹ‘ [یورپی یونین سے اخراج کے عمل] کی توثیق کرتے ہوئے وزیراعظم تھیریسا مے کو اس کے لیے اقدامات کی اجازت دی ہے۔
گذشتہ روز برطانوی دارالعوام کی جانب سے کثرت رائے سے وزیراعظم کو یورپی یونین سے اخراج کی سفارش کی گئی۔ اس کےساتھ ساتھ یورپی یونین سے نکلنے کی شرائط کے تعین اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے اکتیس مارچ کی تاریخ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
دارالعوام میں یورپی یونین سے اخراج کی قرارداد پر رائے شماری کی گئی، اخراج کے حق میں 494 اور مخالفت میں 122 ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد تھیریسا مے کو برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کا قانونی حق حاصل ہوگیا ہے۔
وزیراعظم تھیریسا مے کو یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے سے قبل دارالامراء سے اس کی منظوری لینے کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔