Your browser doesn’t support HTML5 video
سپین کی مرکزی حکومت کا کاتالان خطے پر براہ راست حکومت کرنے کا فیصلہ
اسپین کی حکومت نے آزادی کا اعلان کرنے والے نیم خودمختار علاقے کاتالونیا کی حکومت کو برطرف اور پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسپین کے وزیر اعظم ماریانو راجاؤے نے کاتالونیا کی علاقائی پارلیمنٹ کی جانب سے آزادی کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد وہاں کی حکومت کو برطرف اور پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جب کہ 21 دسمبر کو قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
جرمنی، امریکا، فرانس اور برطانیہ نے اسپین کی مرکزی حکومت کے اس اقدام کی پر زور حمایت کرتے ہوئے کاتالونیا کی آزادی کی مخالفت کی ہے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ماریانو راجاؤے نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہوکر فیصلہ کرے، حالات کو معمول پر لانے کے لیے کاتالونیا پر براہ راست وفاق کا اقتدار نافذ کرنا ضروری ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم نے کاتالونیہ حکومت کے سربراہ کارلیس پوگیمونٹ اور ان کی کابینہ کو فارغ کرتے ہوئے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی معطل کر دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کاتالونیا کی پارلیمنٹ نے رائے شماری کے بعد اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا اور علیحدگی کے حق میں 70 جب کہ مخالفت میں 10 ووٹ ڈالے گئے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
وزیر اعظم ماریانو راجاؤے نے کہا کہ کاتالونیہ کے لوگوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا تھا لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون سے بلاتر ہو کر اپنے مطابق فیصلہ کرے۔ رواں ماہ کے اوائل میں کاتالونیا میں ریفرینڈم ہوا تھا جس میں 90 فیصد عوام نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تاہم اسپین کی مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔