Your browser doesn’t support HTML5 video

بیلجین داعشی جنگجو ’العربیہ‘ کے توسط سے دہشت گردی سے تائب

ابو حمزہ داعش میں شمولیت پر نادم، دہشت گردی کے متاثرین سے معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کی تحویل میں موجود بیلجیم سے تعلق رکھنے والے ایک داعشی دہشت گرد ابو حمزہ نے ’العربیہ‘ چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں دہشت گردی سے تائب ہونے اور داعش میں شمولیت پر ندامت اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ ابو حمزہ بیلجیمی پر الزام ہے کہ اس نے نومبر 2015ء کو پیرس میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی معاونت کی تھی۔

اسے کچھ عرصہ پیشتر عراقی فوج نے موصل شہر میں آپریشن کے دوران حراست میں لیا تھا۔’العربیہ‘ نے حال ہی میں اس کا انٹرویو کیا ہے جس میں اس نے داعش میں شمولیت کو اپنی سنگین غلطی قرار دیا ہے۔

‘ابو حمزہ‘ سے لیا گیا انٹرویو العربیہ پر نشر ہونے والے پروگرام ’صناعۃ الموت‘ میں دکھایا جائے گا۔

ابو حمزہ نے العربیہ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلے تو میں فرانس، بیلجیم، اسپین اورجرمنی سمیت دوسرے ملکوں میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والے لوگوں سے معذرت خواہ ہوں۔ داعش کے ساتھ وابستگی میری بہت بڑی غلطی تھی۔ میں اب اس نتیجے تک پہنچا ہوں کہ دولت اسلامی کے پاس اپنے اقدامات کو سند جواز فراہم کرنے کے لیے اسلام کی کوئی ٹھوس دلیلی نہیں۔

ابو حمزہ نے اپنی اہلیہ اور خاندان کے نام پیغام میں کہا میں افسردہ ہوں کہ میری وجہ سے میری بیوی اور اہل خانہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ میں سب سے معذرت کرتا ہوں۔ بہت زیادہ شرمندہ ہوں۔

جنگجو کا کہنا ہے کہ اگر مجھے دوبارہ سے بچپن سے زندگی شروع کرنے کا موقع ملے تو میں ایک نئی زندگی شروع کروں گا۔ فرانسیسی اور بیلجیم اقوام سے معافی معانگتا ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا دہشت گردوں کےکہنے پر کیا۔ اگر میں ایسا نہ کرتا دہشت گرد مجھے جاسوس سمجھتے اور جان سے مار ڈالتے۔

جنگجو نے بتایا کہ جہاد اور داعش کی طرف اس کا میلان فرانس میں منشیات کیس میں قید کے دوران اس وقت ہوا جب اس کے ساتھ رشید نامی ایک تیونسی جنگجو قید تھا۔ ایک سال تک وہ شام اور جہاد کے سوا اور کوئی بات نہیں جانتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ رشید تیونسی کے ہاتھوں بلیک میل ہوا اور رہائی کے بعد شام چلا گیا۔

اس کا کہنا ہے کہ میں فلسطین جانا چاہتا تھا مگر شام پہنچ گیا اور ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھا جو قتل اورانسانوں کو ذبح کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں