سعودی معیشت

مملکت اور امریکا میں سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں: سعودی وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نےکہا ہے کہ امریکی صدر جوزف بائیڈن کا سعودی عرب کا پہلا عرب ملک کے طور پر دورہ اس عظیم اہمیت کی عکاسی کرتا ہے جسے امریکی قیادت مملکت کے لیے سمجھتی ہے، کیونکہ ان کے سعودی عرب سے تاریخی تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری نو دہائیوں سے زیادہ پر عرصے پر محیط ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ دورہ بین الاقوامی اقتصادی تحریک کی عکاسی کرتا ہے جس پر مملکت کی قیادت اپنی زیادہ تر توجہ سعودی اقتصادی منظر نامے میں بڑھتی ہوئی ترقی اور نمو کی روشنی میں دیتی ہے۔ امریکی صدر کا دورہ بین الاقوامی سطح پرتوجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ دورہ مملکت کی اہمیت ،اس کی اقتصادیات، سیاسی وزن، مشترکہ اقتصادی اجزاء کو مضبوط بنانے اور مختلف اقتصادی سرگرمیوں کو عملی شکل دینےکا باعث بنے گا۔ امریکی صدر کا سعودی عرب کا دورہ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقائی اور عالمی استحکام کو درپیش خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مملکت سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کی گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا آغازسنہ 1930ء میں ہوا۔اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کئی مشترکہ منصوبے قائم ہوئے اور کئی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان معاہدوں میں مالیاتی اور بینکاری تعلقات کو فروغ دینے اور شراکت داری کے فریم ورک کے اندر آنے والے کئی دوسرے منصوبے شروع ہوئے۔

الجدعان نے سعودی امریکن بزنس کونسل کے قیام کے بعد سے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات میں مضبوطی میں ادا کیے گئے عظیم کردار کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بزنس کونسل کی تشکیل کے بعد دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری کے سب سے اہم مواقع پیدا ہوئے۔ ان کے درمیان تعاون کو فروغ دینے ،سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی حیثیت اور گروپ دونوں ملکوں کی ’جی 20‘ میں شمولیت نے اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت دی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی مالیاتی نظام نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہت سی سہولیات فراہم کی ہیں جن میں خاص طور پر مالیاتی ٹیکنالوجی کی حکمت عملی کا آغاز،مالیاتی شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے ستونوں میں سے ایک ہے جو کہ مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے، کاروبار، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ڈیجیٹل اکانومی کو ترقی دینا میں مدد کرے گا۔ اس سے سعودی عرب مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترین کھلاڑیوں کو راغب کرکے مالیاتی شعبے میں جدت کو فروغ دے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں