امریکی صدرجوبائیڈن مشرقِ اوسط کے چارروزہ دورے کے بعد اپنے سرکاری طیارے ایئرفورس ون پرسعودی عرب سے روانہ ہوگئے ہیں۔
سعودی عرب کے سرکاری چینل الاخباریہ نے بتایا کہ صدر بائیڈن کو ہفتے کے روزصوبہ مکہ کے گورنر شہزادہ خالدالفیصل نے ساحلی شہر جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے الوداع کیا۔
امریکی صدرکے سعودی عرب کے دورے کا مقصد ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے اورغیرمستحکم خطے میں استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی دوستانہ اور تزویراتی سطح پربحالی تھا۔
انھوں نے جدہ میں خلیج تعاون کونسل کے علاوہ عراق، مصر اور اردن کے رہ نماؤں کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔انھوں نے اس اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وہ مشرق اوسط میں درپیش چیلنجوں کے بارے میں’’واضح نقطہ نظر‘‘رکھتے ہیں۔انھوں نے بہت سے ایسے شعبوں کے بارے میں اظہار خیال کیا جن میں امریکامثبت نتائج حاصل کرنے میں مدددے سکتا ہے۔
صدرجوزف بائیڈن نے عرب رہ نماؤں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ امریکا مشرقِ اوسط میں ایک فعال شراکت دار کی حیثیت سے موجود رہے گا۔انھوں نے کہاکہ امریکاخطے کے مثبت مستقبل کی تعمیرمیں مدد دینے کے لیے آپ سب کے اشتراک سے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور وہ خطے سے کہیں نہیں جا رہا ہے۔
سلامتی اور ترقی کے عنوان سے خلیج عرب سربراہ اجلاس میں شرکت سے ایک روزقبل صدر بائیڈن نے جمعہ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال تھا۔