امریکی صدر کی چینی ہم منصب کو فون کال، تائیوان پر موقف تبدیل نہیں کیا: بائیڈن

جو بھی آگ سے کھیلے گا وہی جلے گا: صدر شی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کے صدر شی سے فون پر تائیوان کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ جو بائیڈن نے تائیوان کے بارے میں امریکی موقف میں تبدیلی نہ ہونے کا ذکر کیا اور کہا دونوں کی براہ راست ملاقات میں اس موضوع پر بات ہونی چاہیے۔

صدر جو بائیڈن کے صدر بننے سے اب تک صدر شی سے یہ ان کی فون پر بات چیت کا پانچواں موقع تھا۔ انہوں نے تائیوان کے بارے میں کہا 'امریکہ تائیوان کے سٹیٹس کو تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوششوں کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ کوشش پورے تائیوان میں امن اور استحکام کو متاثر کریں گی۔'

دوسری جانب چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر شی نے جو بائیڈن سے کہا "جو لوگ آگ سے کھیلتے ہیں صرف وہی جلتے ہیں۔"

اس بارے میں جب امریکی سرکاری حکام سے پوچھا گیا کہ صدر شی سے یہ منسوب شدہ بیان سامنے آیا ہے تو اس پر امریکی حکام نے کہا 'صدر شی نے پچھلے سال نومبر کے دوران اپنی فون کال پر بھی اسی طرح کی زبان استعمال کی تھی۔'

تاہم وائٹ ہاوس نے اس جملے کو شامل نہیں کیا اور کہا ہے 'جو بائیڈن کی طرف سے یہ فون کال جو بائیڈن انتظامیہ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد باہمی رابطوں بحال رکھنا اور گہرا کرنا ہے۔' نیز یہ کہ ہم اپنے اختلافات کو ذمہ دارانہ انداز میں دیکھنا تاکہ ہم اپنے مفادات کے حوالے سے مل کر کام کر سکیں۔'

اس فون کال کے دوران جو بائیڈن اور صدر شی دونوں نے بالمشافہ ملاقات پر اتفاق کیا کہ یہ زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں طرف کی ٹیموں کو باہمی اتفاق کے وقت کے لیے کام کرنا چاہیے۔'

امریکی حکام کے مطابق علاقائی اور عالمی ایشوز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور موسمیاتی تبدیلی، ہیلتھ سکیورٹی کے علاوہ امریکی شہریوں کو بلا جواز نظر بند کیے جانے کے موضوع پر بھی بات کی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں