شمیمہ بیگم کو’داعش‘ میں بھرتی کرنے والے راشد کا انجام موت یا سیاسی پناہ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خبروں کی سرخیوں میں رہنے والی برطانوی نژاد ’داعشی‘ خاتون جنگجو ’شمیمہ بیگم‘ جسے ’داعش کی دلہن‘ بھی کہا جاتا ہے کو برطانیہ سے ترکیہ اور وہاں سے شام میں داعش تک پہنچانے میں ملوث ملزم محمد راشد کو گذشتہ روز رہا کر دیا گیا۔

حال ہی میں برطانیہ میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ شمیمہ بیگم کو جب اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی داعش میں کس نے شامل کیا تھا؟ شمیمہ کی داعش میں بھرتی میں محمد الراشد نامی ایک ڈبل ایجنٹ کا نام آتا ہے جس کے خلاف ترکیہ میں مقدمہ چلایا گیا۔

اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں، نئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ترک حکام نے کینیڈا کی انٹیلی جنس سروسز میں اس ڈبل ایجنٹ کو رہا کر دیا ہے۔ یہی شخص شمیمہ کو برطانیہ سے شام میں داعش کی صفوں میں شامل کرنے کا ذمہ دار تھا۔

سزائے موت ناگزیر

ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق محمد الراشد جمعے کی دوپہر سے آزاد ہیں، اور انہیں کینیڈا میں سیاسی پناہ دی جا سکتی ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

جبکہ کینیڈین انٹیلی جنس سروسز کا دفتر واضح وجوہات کی بناء پر ایجنٹ کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں سے پہلی یہ ہے کہ ترکی اسے دوبارہ اپنی سرزمین پر قبول نہیں کرے گا۔ تاہم اگر اسے کینیڈا کے بجائے شام منتقل کیا گیا تو شامی رجیم اسے ‘’داعش‘ کے سہولت کارکے طور پر غدار قرار دے گی اور اسے پھانسی دی جا سکتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ کینیڈین سکیورٹی سروسز نے راشد کو ایک کینیڈین جاسوس کے طور پر چھپایا تھا جو "داعش کی دلہن" کی سمگلنگ میں ملوث ثابت ہوا تھا جب کہ برطانیہ اس کی بین الاقوامی سطح پر تلاش کر رہا تھا۔

کینیڈا کی حکومت نے نوجوان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات چھپائی تھیں۔ برطانوی حکومت خاتون کو عوامی طور پر تلاش کرنے کے لیے انتباہ جاری کر رہی تھی، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے ملک کے موقف کے بارے میں دفاع کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ممکنہ کشیدگی

اس کا ماننا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اس کی انٹیلی جنس خدمات کو لچکدار رہنے اور اپنے نقطہ نظر میں تخلیقی ہونے کی ضرورت ہے۔

تاہم کینیڈا کے فیصلے پر شاید کسی کا دھیان نہ جائے۔ وہ یہ کہ اس سے برطانوی اور کینیڈین انٹیلی جنس سروسز کے درمیان تناؤ بڑھے گا۔ خاص طور پر چونکہ دونوں فائیو نیشنز انٹیلی جنس گروپ کے رکن ہیں جس میں امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یہ معلومات "داعش کی دلہن" کے ایک حالیہ انٹرویو میں اس اعتراف کے بعد منظر عام پر آئی ہیں کہ محمد الراشد نامی شخص نے اس سے اپنی دو سہیلیوں 16 سالہ کادیزہ سلطانہ اور پندرہ سالہ امیرہ عباسی کے ساتھ ملایا تھا۔ یہ ملاقات سفر کی سہولت کے لیے استنبول کے ایک بس اسٹیشن پر ہوئی تھی جہاں سے ان تینوں نے داعش کے علاقوں میں جانا تھا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایک ڈبل ایجنٹ تھا جس نے کینیڈا کو بیگم کے پاسپورٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور داعش کے لیے لڑنے کے لیے درجنوں کوافراد کو برطانیہ سے اسمگل کیا اور کینیڈین حکومت نے تقریباً 7 سال تک اس معاملے پر پردہ ڈالا۔

یہ پتہ چلا کہ اردن میں کینیڈا کے سفارت خانے نے 2013 میں جب شمیمہ کی اسمگلنگ سے دو سال قبل، ایک سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرائی تھی تو راشد سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ داعش کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کرے تو وہ اس کی شہریت حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے ان لوگوں کے پاسپورٹوں کی تصاویر لیں جنہیں وہ ٹکٹوں کی خریداری کے طور پر داعش کو اسمگل کرتا تھا، لیکن درحقیقت انہیں کینیڈا کے انٹیلی جنس ایجنٹ کو بھیجتا تھا۔

ناکام کوششیں

جہاں تک شمیمہ بیگم کا تعلق ہے تو وہ ایک 15 سالہ برطانوی طالبہ تھیں جب اس نے 2015 میں مشرقی لندن سے شام تک بیثنال گرین اکیڈمی میں اپنے دو ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ سفر کیا۔

اس نے دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کی یہاں تک کہ اس نے ڈچ نژاد ایک انتہا پسند سے شادی کر لی۔ یہ جنگجو شمیمہ سے آٹھ سال بڑا تھا۔ ان کے تین بچے ہوئے جو تینوں وفات پا گئے۔

قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر لڑکی سے 2019 میں اس کی برطانوی شہریت واپس لی گئی تھی۔

اسے معاف کرنے کی اس کی تمام کوششیں اور درخواستیں ناکام ہوئیں، حالانکہ شمالی کیمپوں میں اس کی جان کو خطرہ ہے۔

اس کے باوجود اس نے اعلان کیا کہ وہ نومبر میں خصوصی امیگریشن اپیل کمیٹی کو ایک نئی درخواست جمع کرائے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں