(دائیں طرف)عبدالفتاح البرہان(بائیں طرف) اور محمد حمدان دگلو حمیدتی
سعودی شہر جدہ میں ایک ہفتے کے دوران ہونے والی بات چیت کے بعد سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز نے ابتدائی اصولوں کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے دوران انہوں نے شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کا عہد کیا۔ بات چیت کے دوسرے دور میں مختصر مدت یعنی دس دن کی جنگ بندی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
تاہم سوڈانی قوم اور دنیا کی نظریں اب بھی مستقل جنگ بندی پر لگی ہوئی ہیں۔ اس بات کی تصدیق سعودی وزارت خارجہ نے آج جمعہ کو اپنے ایک بیان میں بھی کی ہے کہ مذاکرات کے اگلے مراحل میں سول فورسز کو شامل کیا جائے گا تاکہ کسی حل اور مستقل جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ عارضی جنگ بندی سے دشمنی کے مستقل خاتمے کی طرف منتقلی ایک طویل عمل ہو گا۔ خاص طور پر اس لیے بھی کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان ابھی تک کچھ چیزوں میں نقطہ نظر کے اختلاف کی گہری خلیج باقی ہے۔
ریاض اور واشنگٹن نے سوڈان کے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کو سپانسر کیا ہے اور اب دونوں کو امید ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان آج کے اعلامیہ پر دستخط سے امن کے قیام کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ اگلے مرحلے میں سویلین گروپس بھی ان مذاکرات میں شامل ہو جائیں گے۔
سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ کے درمیان جدہ معاہدے کا ایک منظر
واضح رہے کہ آج صبح جس اعلامیے پر دستخط ہوئے اس کا مقصد انسانی امداد کے بہاؤ کو بہتر بنانا اور پانی اور بجلی کی خدمات کو بحال کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہسپتالوں اور کلینکوں سے فوجی دستوں کے انخلاء اور جاں بحق افراد کی مناسب تدفین کے انتظامات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
اسی بارے میں
-
پاکستان کا سوڈان میں قیام امن کیلئے سعودی عرب کی کوششوں کا خیر مقدم -
سوڈان کے بحران کے حل کے لیے سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کوششیں کر رہے ہیں: سعودی عرب -
سوڈان میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں: بلنکن -
سوڈان کے لیے فضائی اور سمندری پل کے آغاز کی تیاریاں جاری ہیں: سعودی عرب