امریکی صدر چینی ہم منصب کے ہمراہ
چینی صدر کو ’آمر‘ قرار دینے کے بعد جوبائیڈن ان سے جلد ملاقات کے لیے بھی پرامید
امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو زور دے کر کہا ہے کہ وہ اب بھی چینی صدر شی جن پنگ کو ایک "آمر" قرار دینے کے بعد ان سے "عن قریب" ملاقات کی امید رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر کی طرف سے شی جن پنگ کو ’ڈکٹیٹر‘ قرار دینے پر چین نے جوبائیڈن کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
بائیڈن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ "مجھے امید ہے کہ مستقبل قریب میں کسی وقت صدر شی سے ملاقات کروں گا۔"
"چینی عزت اور وقار توہین"
بائیڈن نے منگل کے روز پریس کے سامنے ڈیموکریٹک پارٹی کے فنڈ ریزر میں خطاب کرتے ہوئے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کو "آمر" رہ نماؤں سے تشبیہ دی تھی۔
بیجنگ نے ان ریمارکس کا فوری جواب دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چینی صدر کو اس طرح بیان کرنا ریاست کے سیاسی وقار کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی صدر کے بیانات اس مختصر دورے کے دو دن بعد سامنے آئے ہیں۔ ان کا یہ بیان وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کے دورہ چین سے کچھ دیر بعد سامنے آیا تھا۔ بعض مبصرین نے امریکی صدر کے اس بیان کو حیران کن قرار دیا اور کہا کہ بلنکن نے جو معاملات طے کیے تھے جوبائیڈن نے ایک بیان سے ان پر پانی پھیر دیا۔
بائیڈن نے مزید کہا کہ جس وجہ سے شی جن پنگ بہت پریشان تھے وہ جاسوس غبارے کا مار گرایا جانا تھا جس میں جاسوسی آلات سے بھرے دو صندق تھے، کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ وہاں موجود ہے۔وہ انتہائی سنجیدگی سے بات کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آمروں کی بڑی شرمندگی ہے، جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے۔"
دوسری طرف سے چینی وزارت خارجہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے چینی صدر کو "آمر" قرار دینا چین کے سیاسی وقار کی شدید خلاف ورزی اور سیاسی اشتعال انگیزی کے مترادف ہے۔
اسی بارے میں
-
چین،امریکا تعلقات میں تائیوان بڑا خطرہ ہے: بلینکن سے وزیرخارجہ چِن کی گفتگو -
امریکاکی چینی شہری پر ایران کو ہتھیاروں کا موادمہیا کرنے کے الزام میں فردِجُرم -
بائیڈن کی تقریر نے امریکا اور چین کے درمیان ایک بارپھر تناؤ پیدا کردیا -
امریکاکی ایران پرنئی پابندیاں عاید؛چین،ہانگ کانگ اور یواے ای میں قائم 13کمپنیاں ہدف! -
امریکا اور چین میں کشیدگی دنیا کو تباہ کرسکتی ہے: کسنجر