امریکا نے جمعرات کے روز چین، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں قائم ایک درجن سے زیادہ کمپنیوں پرپابندیاں عاید کی ہیں۔ان پر واشنگٹن نے مشرقی ایشیا میں خریداروں کوایران کی پیٹروکیمیکلز اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سہولت کاری کا الزام عایدکیاہے۔
امریکانے ایرانی تیل کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں عاید کی ہیں جب ایران کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور ایران اور مغرب کے مابین تعلقات تیزی سے کشیدہ ہو رہے ہیں جبکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز ان مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کررہی ہیں۔
امریکا اب ایران کے پیٹروکیمیکلز کی برآمدات میں معاونت پر چینی کمپنیوں کونشانہ بنارہا ہے کیونکہ مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کے نام سے معروف جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں اور فی الوقت اس معاہدے پر بالواسطہ بات چیت تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کے روزنامزد کردہ 13 کمپنیوں نے پہلے سے امریکاکی پابندیوں کا شکار کمپنیوں کومشرقی ایشیا میں ایران کی لاکھوں ڈالرمالیت کی پیٹرو کیمیکلزاورپیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سہولت مہیا کی ہے۔ان میں نیشنل ایرانی آئل کمپنی اور ٹرائیلینس پیٹروکیمیکل کمپنی لمیٹڈ بھی شامل ہیں۔
محکمہ خزانہ کے انڈرسیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی سراغرسانی برائن نیلسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’آج کی کارروائی ایران کی جانب سے پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی غیرقانونی فروخت کے لیے پابندیوں سے بچنے کے پیچیدہ طریقوں کو مزید ظاہرکرتی ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ امریکاان کرداروں کے خلاف پابندیوں کا نفاذ جاری رکھے گا جوایرانی تیل کی مصنوعات کی فروخت میں سہولت مہیا کرتے ہیں۔
امریکا نے ایک روز قبل ہی بدھ کو ایران کی ایک سرکاری میڈیا کارپوریشن کے چھے سینیرملازمین پر پابندیاں عاید کی تھیں۔اس نے میڈیا ادارے پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے ملک میں سیکڑوں قیدیوں کے جبری اعترافی بیانات نشرکیے ہیں۔
امریکا ایران پرمظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں بھی دباؤ بڑھارہا ہے اور اس کو جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کی میزپرلانے کی غرض سے بھی پابندیوں کا ہتھیاربروئے کار لارہا ہے۔