ورلڈ سینٹرل کچن (ڈبلیو سی کے) کی آسٹریلوی امدادی کارکن لالزاومی (زومی) فرینکام جو غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئیں۔ (رائٹرز)

غزہ میں امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی تحقیقات آسٹریلیا کے ریٹائرڈ آرمی چیف کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا نے پیر کے روز ایک سابق فوجی سربراہ کو غزہ میں سات امدادی کارکنان کی ہلاکت کے معاملے میں اسرائیل کی تحقیقات کی نگرانی کا کام تفویض کیا اور ان ہلاکتوں کے لیے "مکمل احتساب" کا مطالبہ کیا ہے۔

آسٹریلوی شہری لالزاومی 'زومی' فرینکام گذشتہ ہفتے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے ورلڈ سینٹرل کچن کے رضاکاروں کے گروپ میں شامل تھیں۔

اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے اس واقعے کے نتیجے میں دو افسران کو برطرف کر دیا تھا لیکن اس کی وضاحت کی کوششیں بین الاقوامی غم و غصے کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے اسرائیل کے ابتدائی ردِعمل پر شدید تنقید کی ہے۔

پیر کو انہوں نے دفاعی فوج کے سبکدوش سربراہ مارک بنسکن کو جاری تحقیقات پر اسرائیلی فوج کے ساتھ کام کرنے کے لیے خصوصی مشیر مقرر کیا۔

انہوں نے کہا، "آسٹریلیا نے اسرائیلی حکومت پر اپنی توقعات اور اعتماد واضح کر دیا ہے کہ اس مشغولیت کو آسان بنایا جائے گا۔"

"آسٹریلوی حکومت واضح کر چکی ہے کہ ہم ان اموات کے لیے مکمل احتساب کی توقع کرتے ہیں۔"

ایک انتہائی قابلِ احترام سینئر افسر بنسکن جنہوں نے آسٹریلیا کی فضائیہ کی قیادت بھی کی، وہ "ذمہ داروں کے احتساب کے لیے کیے گئے اقدامات" کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ آسٹریلوی حکومت کو یہ بھی مشورہ دیں گے کہ آیا مزید تحقیقات یا نتائج کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں قائم ورلڈ سینٹرل کچن -- جسے ہسپانوی-امریکی مشہور شیف جوز اینڈریس نے قائم کیا تھا -- نے کہا کہ اسرائیلی افواج کے ایک "ہدفی حملے" میں سات امدادی کارکن ہلاک ہو گئے۔

اس گروپ میں 43 سالہ آسٹریلوی شہری فرینکام کے ساتھ ساتھ برطانوی، فلسطینی، پولش اور امریکی-کینیڈین ملازمین بھی شامل تھے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بعد میں اعتراف کیا کہ ان کی فوج نے "غیر ارادی طور پر" رضاکاروں کو ہلاک کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں