26 جنوری 2017 کو کیوبا کے گوانتانامو بے میں امریکی فوجی جیل میں کیمپ پانچ کی حفاظتی باڑ کے باہر لوگ ایک محافظ برج کے پاس سے گذر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

گوانتاناموبے کے قیدیوں کے بدلے امریکی قیدیوں کی'رہائی' پرتبادلۂ خیال کیا گیا: طالبان

"افغانستان کی شرائط کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔" ذبیح اللہ مجاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان حکومت کے ترجمان نے بدھ کو کہا کہ افغانستان میں دو امریکی قیدی زیرِ حراست تھے اور گوانتانامو بے میں قید افغانوں کے "تبادلے" پر امریکہ کے ساتھ بات چیت ہوئی۔

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہمیں بدلے میں اپنے شہریوں کو آزاد کروانے کے قابل ہونا چاہیے۔ جیسے امریکی شہری ان کے لیے اہم ہیں، اسی طرح افغان ہمارے لیے اہم ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ قطر میں اقوامِ متحدہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکی نمائندوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت ہوئی۔

یہ مذاکرات پیر کو ختم ہو گئے جن میں اقوامِ متحدہ کے حکام، طالبان حکام اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی جمع تھے۔

مجاہد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "دو امریکی شہری افغانستان میں قید تھے۔" نیز انہوں نے کہا کہ افغان قیدی بھی امریکہ بشمول کیوبا میں خفیہ امریکی قید خانے میں قید تھے ۔

انہوں نے کہا، "ہم نے پہلے بھی ان (امریکہ) سے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کی ہے۔ افغانستان کی شرائط کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں