افغانیوں کی رہائی کے بدلے امریکی قیدی رہا کر سکتے ہیں:مذاکرات میں طالبان کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

طالبان حکام نے امریکی حکام کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ایشو پر کہا ہے کہ افغانستان میں دو امریکی قیدی موجود ہیں۔ جن کی رہائی افغان قیدیوں کے بدلے میں ممکن ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس امر کا اظہار بدھ کے روز کیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا 'امریکی جیل گوانتاناموبے میں موجود افغانیوں کی رہائی کے لیے امریکہ سے بات چیت ہوئی ہے اور ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ ہم ان کے بدلے میں امریکی قیدیوں کو رہا کر سکتے ہیں۔ '

'جس طرح امریکی شہری امریکہ کے لیے اہم ہے، اسی طرح ہمارے افغان شہری ہمارے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔' طالبان کے ترجمان نے یہ گفتگو کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کے ساتھ یہ تبادلہ خیال اقوام متحدہ کی میزبانی میں بلائی گئی کانفرنس کے دوران ہوا۔ جس میں طالبان کے نمائندہ کے علاوہ امریکہ کے نمائندہ برائے افغانستان بھی موجود تھے۔

واضح رہے اقوام متحدہ کی میزبانی میں یہ کانفرنس دوحہ میں منعقد کی گئی۔ جہاں دونوں سابق متحارب ملکوں نے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے تجاویز اور شرائط کا جائزہ لیا۔ طالبان نے بتایا کہ ان کے پاس افغانستان میں اس وقت 2 امریکی قیدی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں