امریکی خفیہ سروس کی ڈائریکٹر کمبرلی شیٹل
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد امریکی سیکریٹ سروس کی ڈائریکٹر مستعفی
امریکی خفیہ سروس کی ڈائریکٹر کمبرلی شیٹل نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے سابق صدر پر قاتلانہ حملے کی کوشش کےبعد سابق صدر کی سکیورٹی سے نمٹنے میں سیکرٹ سروس کی ناکامی کے جوابات مانگے تھے۔
ایوان نمائندگان کے اسپیکر نے کہا کہ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کملا ہیرس کے جوابات ناقابل قبول اور ناکافی ہیں اور اس کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔ ان سے سوالات پوچھے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی نائب صدر کملا ہیرس کی پالیسیاں تباہ کن ہیں جو کہ ہیرس کو ان کے عہدے سے ہٹانے یا ان سے دستبردار ہونے کا تقاضا کرتی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر بائیڈن انتخابات میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہیں تو وہ صدارت کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ امریکہ موجودہ حالات کے باوجود چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اپنی ناکامی کا اعتراف
کل سوموار کو سیکریٹ سروس کی سربراہ نے کانگریس میں اعتراف کیا کہ وہ اور اس کی ایجنسی اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب 13 جولائی کو پنسلوانیا میں انتخابی مہم کے دوران کسی نے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو قاتلانہ حملے میں زخمی کر دیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
شیٹل نے ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ "ہم ناکام رہے۔ امریکہ کی سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر کے طور پر میں کسی بھی حفاظتی کوتاہی کی پوری ذمہ داری لیتی ہوں"۔
انہوں نے مزید کہاکہ "سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 13 جولائی کو قتل کرنے کی کوشش کئی دہائیوں میں خفیہ سروس کی کارروائیوں میں سب سے نمایاں ناکامی ہے"۔
قابل ذکر ہے کہ شیٹل نے ممتاز ریپبلکنز کی جانب سے استعفیٰ کے مطالبات کی مزاحمت کی، جن میں جانسن اور سینیٹ میں اقلیتی رہنما مچ میک کونل شامل ہیں۔