اسرائیل امریکہ کا کلیدی اتحادی رہے گا : نیتن یاہو کا امریکہ روانگی پر اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ کا صدر کون ہے اور کون نہیں۔ مشرق وسطی میں اسرائیل امریکہ کا مضبوط ترین اتحادی رہے گا۔ نیتن یاہو نے یہ بات پیر کے روز امریکہ روانگی سے پہلے کہی ہے۔ وہ 24 جولائی کو کانگریس سے خطاب کے لیے امریکہ گئے ہیں۔

نیتن یاہو کے چھٹی بار وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے سب سے اہم اتحادی ملک کا سب سے اہم دورہ ہے۔ انہیں یہ موقع چوتھی بار مل رہا ہے کہ وہ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے والے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے انہیں یہ موقع ایسے وقت پر دیا گیا جب نیتن یاہو عالمی سطح پر شدید اخلاقی بحران کا شکار تھے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا کہہ دیا تھا۔ لیکن کانگریس سے خطاب کی اس دعوت نے انہیں ایک مرتبہ پھر سہارا دے دیا ہے۔

امریکہ روانگی سے پہلے انہوں نے صدر جوبائیڈن کا شکریہ ادا کیا کہ جنگ کے دوران ہمیں جوبائیڈن کی پوری حمایت حاصل رہی۔ صدر جوبائیڈن یرغمالیوں کی رہائی، حماس کے خاتمے ، ایران اور ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف ہمیشہ مدد کرتے رہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی 81 سالہ صدر جوبائیڈن سے غیر حتمی ملاقات طے ہے۔ تاہم یہ ملاقات ان کی کووڈ سے صحتیابی کی صورت میں ہی ممکن ہوگی۔

'میں اپنے دوستوں کو بتاؤں گا کہ فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ کا صدر کون ہے اور کون نہیں۔ مشرق وسطی میں اسرائیل امریکہ کا مضبوط ترین اتحادی رہے گا۔' نیتن یاہو نے یہ بات پیر کے روز امریکہ روانگی سے پہلے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

'جنگ اور بےیقینی کے ماحول میں یہ ضروری ہے کہ اسرائیل کے دشمن یہ جانیں کہ اسرائیل اور امریکہ اکٹھے کھڑے ہیں۔ کل بھی اکٹھے کھڑے ہوں گے اور ہمیشہ اکٹھے کھڑے رہیں گے۔' نیتن یاہو نے کہا 'ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے بغیر جماعتی امتیاز کے حمایت جاری رہے۔ یہ اسرائیل کے لیے اہم ہے۔'

تعلقات میں جمود کے کئی ماہ بعد تک اسرائیل نے حماس کے خلاف اپنی جنگ کو کس طرح جاری رکھا، اب یہ موقع ہوگا کہ نیتن یاہو دو طرفہ تعلقات کو غزہ جنگ کے حوالے سے 'ری سیٹ' کریں۔

ان کی کانگریس میں تقریر کے مرکزی نکتے میں یہ شامل ہوگا کہ اسرائیل اور امریکہ مل کر مشرق وسطیٰ کی خراب صورتحال کو کس طرح ہینڈل کریں۔ کیونکہ وہاں پر خطرہ بڑھ رہا ہے اور غزہ کی جنگ اب غزہ سے باہر نکل رہی ہے۔

امکان یہ ہے کہ نیتن یاہو کی 24 جولائی کو ہونے کانگریس میں ہونے والی تقریر ان کی 2015 میں کی گئی کانگریس کی تقریر کے مقابلے میں کم متنازعہ اور تصادم خیز ہوگی۔ 2015 میں انہوں نے باراک اوباما کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ باراک اوباما ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے کا اصل کردار ہیں۔

دباؤ

اسرائیل پر نئے سرے سے حماس کے ساتھ سیاسی مذاکرات شروع کرنے کے لیے امریکی دباؤ کی ایک شکل یہ ہے کہ امریکہ مذاکرات نہ کرنے کی صورت میں اسرائیل کے لیے اسلحہ فراہمی روکنے کی دھمکی دے سکتا ہے۔ نیز یہ بات بھی امریکہ میں محسوس کی جاتی ہے کہ نیتن یاہو کے زیر قیادت اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کمزوری آئی ہے۔ خود اسرائیل کے اندر بھی نیتن یاہو کو جنگ بندی کے لیے عوامی دباو کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر 'یوناتن فری مین' نے کہا 'ان سب کچھ کے باوجود نیتن یاہو اسرائیل کا لیڈر ہے۔ آج بھی اسے لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے آج بھی امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ اسی لیے اس کو کانگریس سے خطاب کا موقع دیا گیا ہے۔ یہ عام طور پر امریکہ کے انتہائی قریبی اتحادیوں کو دیا جاتا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں