FILE PHOTO: A Chinese Coast Guard vessel blocks the Philippine resupply vessel Unaizah May 4, on its way to a resupply mission at Second Thomas Shoal in the South China Sea, March 5, 2024. REUTERS/Adrian Portugal/File Photo
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے فلپائن کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے امریکی والے میزائلوں کی تنصیب کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
امریکہ نے اس سال کے شروع میں مشترکہ فوجی مشقوں کے ایک حصے کے طور پر ٹائفون میزائل سسٹم فلپائن بھیجا تھا۔ فلپائن کے ایک فوجی اہلکار نے بعد میں کہا کہ اسے تربیت کے دوران لانچ نہیں کیا گیا لیکن اس نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ وہ دفاعی سسٹم کب تک ملک میں رہے گا۔
وانگ یی نے فلپائن کے وزیر خارجہ اینریک منالو کو جمعہ کے روز وینٹیانے میں ملاقات کے دوران بتایا کہ چین اور فلپائن کے تعلقات اب ایک دوراہے پر پہنچ چکے ہیں اور بات چیت اور مشاورت کے علاوہ تنازعات اور تصادم سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
وانگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ فلپائن نے "دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے اور اپنے وعدوں کی بار بار خلاف ورزی کی ہے"۔
وانگ نے مزید کہا کہ "اگر فلپائن امریکی درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کو تعینات کرتا ہے تو یہ خطے میں کشیدگی اور تصادم کو جنم دے گا۔ اسلحے کی دوڑ کا باعث بنے گا جو فلپائنی عوام کے مفادات اور خواہشات کے بالکل خلاف ہے"۔
ایک متعلقہ سیاق و سباق میں چینی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ بیجنگ بحیرہ جنوبی چین میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے حال ہی میں طے پانے والے معاہدے کی فلپائن کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کا "مضبوطی سے جواب" دے گا۔
چین اور فلپائن کے درمیان سٹریٹجک آبی گذرگاہ کے کچھ حصوں پر دیرینہ تنازعہ چل رہا ہے۔ یہ آبی گذرگاہ سالانہ کھربوں ڈالر کی تجارت کا ذریعہ ہے۔
پچھلے ہفتے دونوں فریقوں نے حالیہ مہینوں میں علاقے میں تصادم کے بعد سیکنڈ تھامس شول میں تعینات فلپائنی فوجیوں کو سپلائی مشن پر ایک "عبوری انتظام" پر اتفاق کیا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے جمعہ کے روز لاؤس میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن ’آسیان‘ کے اجلاس کے موقعے پر فلپائن سے مطالبہ کیا کہ وہ "پیچھے ہٹنے یا پیچیدگیاں پیدا کرنے" کے بجائے معاہدے کے تحت "اپنی ذمہ داریاں پوری کرے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری صورت میں چین یقینی طور پر سختی سے جواب دے گا۔
جمعہ کو دیر گئے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے منالو نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بیجنگ اس معاہدے پر قائم رہے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "اگر دونوں فریق عمل درآمد کرتے ہیں، ہمیں امید ہے کہ چین معاہدے پر عمل درآمد کرے گا، تو ہم بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی فوج کو جہاز پر فراہم کر سکیں گے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ یہ کشیدگی کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہو گا اور امید ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں تعاون کے دیگر شعبوں کی طرف لے جائے گا"۔