پاکستان کے حوالے سے خصوصی شہرت کے حامل سینئر امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان میں معیشت کے استحکام کے لیے بھی رقم استعمال کریں گے۔ تاکہ عسکریت پسندی کے ساتھ نمٹا جا سکے۔
نہوں نے اس امر کا اظہار ایک تحریری بجٹ درخواست میں امریکی ایوان نمائندگان کی فارن افیئرز کمیٹی کے سامنے منگل کے روز کیا ہے۔ تاکہ پاکستان کو دہشت گردی کے مقابلے جمہوریت کی مضبوطی اور پاکستان کے چین پر بڑھتے ہوئے انحصار کو کم کرنے کے لیے مدد دی جا سکے۔ کہ پاکستان نے 2025 کے لیے اپنے مالی میزانیہ میں چین پر انحصار بڑھانے کے اشارے دیے ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف شعبوں کے حکام کی طرف سے امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹیوں کو بجٹ درخواستیں اور پالیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ جو فنڈنگ کے منصوبوں سے متعلق ہیں۔
امریکی کانگریس میں یہ معمول ہے کہ اس طرح کی فنڈنگ کے لیے متعلقہ محکمے کانگریس سے منظوری لیتے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے مجموعی طور پر 1.01 ارب ڈالر کی درخواست پیش کی ہے۔ وہ یہ رقم جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ملکوں میں خرچ کرنا چاہتے ہیں۔
سال 2023 کے بجٹ کے مقابلے میں اس علاقے میں استعمال کے لیے امریکی فنڈز میں 1.9 فیصد کمی کی گئی ہے۔
ڈونلڈ لو نے ایوان نمائندگان کی فارن ریلیشنز کمیٹی سے کہا ہے 'پاکستان میں اس وقت ہمارے لیے چیلنجز بھی ہیں اور مواقع بھی یہ رقم جمہوریت کی مضبوطی، سول سوسائٹی کو آگے لانے، دہشت گردی کے مقابلے اور معاشی اصلاحات میں مدد ینے کے لیے خرچ کی جائے گی۔ جس سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو سکے۔ تاکہ پاکستان کا چین پر انحصار بڑھتا نہ چلا جائے۔'
ڈونلڈ لو نے مزید کہا 'اس وقت انتظامیہ کو اپنے محدود بجٹ کے اندر رہنا ہے۔ ہماری مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ ہم چین کے مقابلے میں اپنا اثر رسوخ بڑھائیں اور زیادہ مؤثر ہوں۔ ایسی بہتر پیش کشیں جن میں ان کے سیکیورٹی سے متعلق چیلنیجز میں ان کی مدد کرنا، ان کی معاشی ضروریات کے لیے ان کے ساتھ اچھے کاروباری معاہدے کرنا اور ان کے ترقیاتی کاموں میں ان کو مدد دینا شامل ہیں۔'