روس کے خلاف جرمنی میں میزائل نصب کرنے کے اعلان پر صدر پوتین کا امریکہ کو انتباہ
روسی صدر پوتن نے روس کے خلاف جرمنی میں میزائل نصب کرنے کے فیصلے پر امریکہ کو انتباہ کیا ہے۔ 'اگر واشنگٹن نے ایسا کیا تو ہم بھی اسی صلاحیت کے میزائل اسی رینج کے مطابق نصب کر دیں گے۔ جس کے نتیجے میں یورپی ملکوں میں اہداف روسی نشانے پر ہوں گے۔'
واضح رہے امریکہ اور جرمنی نے اسی مہینے میں یہ اعلان کیا ہے کہ نیٹو کی طرف سے یورپی ملکوں کے دفاع کے لیے 2026 سے 'لانگ رینج' میزائل نصب کیے جائیں گے۔
امریکہ کی طرف سے یہ قسط وار پیش رفت اس تیاری کا حصہ ہے جس کے تحت یورپی ملکوں کے دفاع کے لیے 'ایس ایم 6' ، ٹوما ہاک کروس میزائل' اور 'ڈویلپمنٹل ہائپر سونک ہتھیار' جو کہ طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھیں گے یورپ میں نصب کیے جائیں گے۔ یہ اعلان امریکہ اور جرمنی نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔
پوتین نے روسی بحریہ کے خصوصی دن کے موقع پر سینٹ پیٹر برگ میں اتوار کے روز خطاب کیا۔ جس میں روسی بحریہ کے علاوہ چین ، بھارت ، الجزائر کی بحریاؤں کے اہلکار بھی موجود تھے۔
پوتین نے خبردار کیا 'امریکہ ایک نئی سرد جنگ کا آغاز کر رہا ہے۔ جس کی ایک دلیل امریکی میزائل جرمنی میں نصب کرنے کا اعلان ہے۔ اس طرح کے ہتھیار جو ہمارے علاقے میں اہداف کو نشناہ بنانےکے لیے نصب کی جائیں گے خواہ وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوں، ہمارے سے تقریباً 10 منٹ کے فاصلے پر ہوں گے۔ ہم امریکی میزائلوں کے جواب کے لیے اسی طرح ان کے مقابل اپنے میزائل نصب کریں گے۔ تاکہ امریکی اقدام کا توڑ کر سکیں۔ ہمارے میزائل کے نتیجے میں یورپ میں ان کے سیٹلائٹس اور دوسرے خطوں میں بھی نشانے پر ہو سکیں گے۔
صدر پوتین نے اپنے خطاب میں مزید کہا 'امریکہ کشیدگی بڑھا رہا ہے اور اس نے ڈنمارک اور فلپائن کو 'ٹائیفون میزائل سسٹم' بھی منتقل کیا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے 1997 میں ایک مرتبہ اسی طرح کی مغربی یورپ میں سرگرمی کر چکا ہے۔ اس وقت سوویت یونین کی قیادت نے بشمول سیکرٹری جنرل یوری اندرو پوف اس خطرے کر بھانپ لیا تھا۔ جو امریکہ سوویت یونین کے لیے پیدا کرنا چاہتا تھا۔ '
روس کے صدر نے اپنے انتباہ کو بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں روس کم فاصلے اور درمیانی فاصلے کے میزائلوں کی تیاری شروع کر سکتا ہے۔ جیسا کہ امریکہ نے جرمنی کے ساتھ مل کر اعلان کیا ہے، اس کا توڑ کیا جا سکے۔