لبنان اور غزہ میں جنگ بندی کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں: تہران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خطے میں ہونے والی غیر معمولی کشیدگی کی روشنی میں اسرائیل اور ایران کی باہمی دھمکیوں کے تبادلے کے درمیان تہران نے تصدیق کی ہے کہ وہ قیام امن اور جنگ بندی کے لیے کسی بھی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کو کہا کہ ان کا ملک امن اور جنگ بندی کی کسی بھی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے اور غزہ اور لبنان کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ان میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران نے کبھی کسی ملک کے خلاف جنگ شروع نہیں کی۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ وہ اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے کہا کہ ہم جواب دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ یا جلدی نہیں کریں گے بلکہ ہم کسی بھی حملے کا مناسب وقت اور جگہ پر جواب دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کسی بھی قسم کی مشاورت سے قطع نظر ایران ضرورت پڑنے پر کسی بھی ردعمل کے لیے تیار ہے۔

کئی ایرانی حکام گزشتہ دنوں اور ہفتوں کے دوران بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ تہران جنگ یا تنازع کو علاقائی طور پر بڑھانا نہیں چاہتا لیکن ضرورت پڑی تو اس کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں گزشتہ حملے کے مقابلے میں اس بار سخت ردعمل دیا جائے گا۔ تل ابیب نے ایرانی حملے کا اچانک اور مہلک جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ واشنگٹن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حملوں کو فوجی اڈوں تک محدود رکھے اور ایرانی تیل تنصیبات یا ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔

یکم اکتوبر کو تہران نے اسرائیل پر 180 سے زیادہ میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 3 اسرائیلی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ 31 جولائی کو تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل اور 27 ستمبر کو بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے قتل کے جواب میں کیا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں