اسرائیل کو آج فضائی دفاعی نظام کو مزید طاقت حاصل ہونے کی امید ہے اور ساتھ ہی ایران نے ممکنہ اسرائیلی حملے کے جواب میں ایرانی رد عمل کے پیش نظر تل ابیب کے علاقے ’’ کریاہ‘‘ میں تمام جی پی ایس سگنلز کو غیر فعال کرنا شروع کردیا ہے۔ کریاہ کے علاقے میں وزارت دفاع کا آفس واقع ہے۔
نیوز ویب سائٹ ’’ والا‘‘ کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں اسرائیلی فوج نے تل ابیب میں جی پی ایس سگنلز میں خلل ڈالنا شروع کر دیا۔ ’’والا‘‘ کے مطابق کہ اسرائیل پہلے ہی ایران پر متوقع حملے کے بعد دوبارہ حملے کے امکان کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے رہنماؤں نے متوقع اسرائیلی حملے کے بعد ایک اور ایرانی ردعمل کی تیاری کے بارے میں متعدد بات چیت کی۔
اس تیاری میں فضائی دفاعی نظام، اسرائیلی فوج میں کنٹرول سسٹم، وزارت دفاع، ہوم فرنٹ کمانڈ ، حکومتی وزارتیں، خاص طور پر وزارت دفاع اور حساس تنصیبات کے لیے اعلیٰ سطح کی تیاری شامل تھی۔ .
اس تناظر میں ایک سکیورٹی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ امریکی اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسرائیلی وزارت دفاع اور فوج ملک بھر کے مختلف علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مانیٹرنگ اور وارننگ سسٹم کو جدید بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔بلومبرگ کے مطابق، THAAD میزائل دفاعی نظام کی آج اسرائیل میں آمد متوقع ہے۔
تھاڈ سسٹم کیا ہے؟
ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس کا مخفف تھاڈ ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن کی طرف سے تیار کردہ اس نظام کو فضا کے اندر یا باہر بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان میزائلوں میں جنگی ہتھیار نہیں ہوتے یعنی یہ اپنے اہداف کو تیز رفتاری سے ٹکرا کر تباہ کر دیتے ہیں۔ انہیں ٹرکوں پر نصب لانچروں سے بھی لانچ کیا جاتا ہے۔
امریکہ کے پاس 7 THAAD بیٹریاں موجود ہیں جو اس نے پوری دنیا میں لگائی ہیں۔ جبکہ اس کا پہلا عملی استعمال 2022 میں ہوا تھا۔ یکم اکتوبر کو ایران کی جانب سے کیے گئے حملے میں تقریباً 200 بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے تھے جن میں سے اکثر کو اسرائیلی فضائی دفاع نے مار گرایا تھا۔ تاہم ایران ایف 35 لڑاکا طیاروں کے اسرائیلی سکواڈرن کی میزبانی کرنے والے فضائی اڈے پر بمباری کرنے میں کامیاب رہا۔ ایک اور ایسا میزائل غیر ملکی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر گرا تھا۔
اس حملے نے اسرائیل کے دفاع کی حدود کو واضح کردیا۔ خاص طور پر جب اس نے خلا کو پُر کرنے کے لیے زیادہ درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کو تعینات کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ امریکہ کچھ میزائلوں کو مار گرانے میں ملوث تھا لیکن اسرائیل نے اسے ایک اور ممکنہ راؤنڈ سے پہلے مزید کچھ کرنے کو کہا۔
یکم اکتوبر کو اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ تہران نے اس پر تقریباً 180 میزائل داغے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس میزائل حملے سے اسرائیل کو تقریباً 53 ملین ڈالر کا اہم نقصان ہوا ہے۔
-
اسرائیلی ڈرون مار گرایا ہے: حزب اللہ کا دعویٰ
فضائی دفاعی یونٹس اسرائیلی "ہرمیز 450 ڈرون" مار گرانے میں کامیاب
مشرق وسطی -
اٹلی کا لبنان میں اپنے فوجیوں کے لیے حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ
اسرائیلی بربریت کے ساتھ حماس اور حزب اللہ کے حملوں کی بھی مخالفت کی
بين الاقوامى -
اسرائیل کو فراہم امریکی تھاڈ نظام جنگ کا چہرہ بدل سکتا ہے
ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے لے کر تاحال ...
بين الاقوامى