ریپبلکن صدارتی امیدوار و سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار و امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی فائل فوٹوز کا مجموعہ جب وہ 10 ستمبر 2024 کو فلاڈیلفیا، پنسلوانیا، امریکہ میں اے بی سی کے زیرِ اہتمام صدارتی مباحثے میں شریک ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
تھکن کی اطلاعات: ٹرمپ کی عمر ہیرس کے نشانے پر
"کیا آپ امریکہ کی صدارت کے لیے موزوں ہیں؟" ہیرس کا ٹرمپ سے استفسار
کملا ہیرس نے جمعہ کے روز صدارتی عہدے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت پر سوال اٹھایا۔ تاریخ کی سب سے پرانی اکثریتی پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹرمپ نے حال ہی میں انٹرویوز کے تسلسل کے باعث بعض خبری اداروں کو انکار کر دیا جس کے بعد انہیں ان قیاس آرائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ وہ "تھک گئے" ہیں۔
78 سالہ ریپبلکن دوستانہ روابط والے ٹی وی نیٹ ورکس پر نمودار ہو رہے ہیں لیکن انہوں نے سی این بی سی، این بی سی اور سی بی ایس سمیت میڈیا اداروں کے ساتھ گفتگو منسوخ کر دی ہے۔ پہلے مباحثے میں شکست کے بعد انہوں نے ہیرس کے ساتھ دوسری بحث سے بھی انکار کر دیا ہے۔
پولیٹیکو نے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ کے ایک معاون نے ایک انٹرویو کے معاملات طے کرتے ہوئے ایک ویب سائٹ پر پروڈیوسرز کو بتایا تھا کہ سابق صدر "تھک گئے" تھے اور کچھ چینلز پر انٹرویوز سے انکار کر رہے تھے۔ لیکن اس دعوے کو ان کی مہم نے "حقیقت سے لاتعلق" قرار دیا ہے۔
لیکن اس ہفتے کے آخر میں 60 سال کی ہو جانے والی ہیرس نے صحت و تندرستی پر ٹرمپ کو نشانہ بنایا۔
ہیرس نے مشی گن کی سوئنگ سٹیٹ میں حامیوں کو بتایا، "اگر آپ انتخابی مہم کے دوران تھک چکے ہیں تو اس بارے میں حقیقی سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا آپ دنیا کی مشکل ترین ملازمت کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔"
ٹرمپ نے ہیرس کے طنز پر غصیلے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے کچھ بھی منسوخ نہیں کیا تھا اور اپنی ڈیموکریٹک حریف کو ایک "شکست خوردہ" قرار دیا جن کے پاس "ایک خرگوش کے برابر بھی توانائی نہیں ہے۔"
مقابلے کی ریلیاں
ہیرس نے اوکلینڈ کاؤنٹی میں بات کرتے ہوئے ووٹرز کو خبردار کیا: "ڈونلڈ ٹرمپ مشی گن کے لوگوں سے وہی کھوکھلے وعدے کر رہے ہیں جو انہوں نے پہلے کیے تھے، اس امید پر کہ آپ بھول جائیں گے کہ انہوں نے آخری بار آپ کو کس طرح مایوس کیا تھا۔"
دونوں امیدوار اپنی انتخابی مہم کے آخری دن مقابلے کی اہم ریاستوں میں گذار رہے ہیں جہاں قبل از وقت ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیب کے ڈیٹا کے مطابق جمعے کی شام تک تقریباً 12 ملین ووٹوں میں سے تقریباً ایک تہائی سات سوئنگ ریاستوں میں ڈالے گئے ہیں جن کے نتائج پر انتخابات کا فیصلہ ہونے کی توقع ہے۔
کملا ہیرس کلیدی اتحادی اسرائیل کے لیے صدر جو بائیڈن کی حمایت کو برقرار رکھتی ہیں جبکہ مسلم اور عرب امریکی ووٹرز خاص طور پر مشی گن کے رہائشیوں نے غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اس امر کے باعث ہیرس کو بہت زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت پر ہیرس نے غزہ میں جنگ بندی ہو جانے کی امید ظاہر کی ہے لیکن اسرائیل نے فوری طور پر کہا کہ ان کی موت سے اس فوجی مہم کا خاتمہ نہیں ہو گا جو سات اکتوبر کے حملے کے بعد شروع ہوئی۔
ڈیٹرائٹ میں ایک تقریر سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ سنوار کی موت سے غزہ میں جنگ کے پرامن حل کے امکانات بڑھ گئے ہیں جبکہ انہوں نے بائیڈن کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔