حوثی گروپ کے ارکان

حوثی القاعدہ کو ڈرون اور تھرمل میزائل فراہم کرتے : اقوام متحدہ کی تحقیقات میں انکشاف

سمگلنگ اور غیر قانونی طور پر ہتھیاروں کی منتقلی میں حوثیوں اور الشباب کے بڑھتے تعاون پر تحقیقات جاری ہیں: یو این ٹیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہرین کے گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی گروپ کے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ اور صومالی الشباب تحریک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور یہ ایک تشویش ناک معاملہ ہے۔ پابندیوں کی کمیٹی کی تحقیقاتی ٹیم نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی اپنی حتمی رپورٹ میں خفیہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی گروپ اور القاعدہ کے درمیان موقع پرست اتحاد کی خصوصیت ہے۔ ان کے درمیان سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔ دونوں گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کے افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ دونوں گروپ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ افواج کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو بھی مربوط بناتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2024 کے آغاز سے دونوں گروپ اپنے آپریشنز کو ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست مربوط کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ دونوں گروپوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حوثی تھرمل میزائلوں اور دھماکہ خیز آلات کے علاوہ چار ڈرون لے جائیں گے اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو تربیت فراہم کریں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دونوں گروپوں نے حوثی گروپ کی جانب سے سمندری اہداف پر کیے جانے والے حملوں میں القاعدہ کو مدد فراہم کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

حال ہی میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے ابین اور شبوہ میں یمنی حکومت سے وابستہ فورسز کے خلاف اپنے حملوں میں ڈرون اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کا استعمال کیا تھا۔ ٹیم نے تنظیم کی طرف سے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کو کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ یمنی حکومت کے مطابق القاعدہ کی جانب سے گزشتہ سال سے دیسی ساختہ بموں کے استعمال کے نتیجے میں 84 فوجی ہلاک اور 133 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔

ذرائع نے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ دونوں گروپوں نے دشمنی روکنے اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔ ان قیدیوں میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے سابق رہنما سامی دیان بھی شامل ہیں جنہیں 2014 میں حوثیوں کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سامی دیان جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کا ایک اہم رہنما تھا اور ایمن الظواہری کے نائب کے طور پر کام کرتا تھا۔

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی گروپ نے صومالی دہشت گرد الشباب تحریک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے تاکہ وہ صومالی ساحل سے سمندر میں حملے کرنے کے منصوبے کے تحت اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار کو وسعت دے سکے۔ ٹیم نے کہا کہ وہ یمن اور خطے میں امن و سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سمگلنگ اور غیر قانونی طور پر ہتھیاروں کی منتقلی میں حوثیوں اور الشباب کے درمیان بڑھتی ہوئی باہمی تعاون کی کوششوں کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں