من تظاهرات العلماء والطلاب ضد اقتطاعات الرئيس ترامب في نيويورك - 7 مارس 2025 - أسوشييتد برس
امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ کی وفاقی اخراجات میں کٹوتیاں، سائنس دانوں اور طلبہ کے مظاہرے
امریکا کے کئی شہروں میں طلبہ، سائنس دانوں اور محققین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی اخراجات کٹوتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان کٹوتیوں کے نتیجے میں وفاقی ایجنسیوں میں بنیادی ملازمتوں کی منسوخی اور اہم تحقیقات کے لیے مختص وسائل میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
جنوری میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ہی ان کی انتظامیہ وفاقی اخراجات کم کرنے میں مصروف ہے۔ امریکا نے عالمی ادارہ صحت اور پیرس ماحولیاتی سمجھوتے سے باہر آنے کا اعلان کر دیا۔ مزید یہ کہ صحت اور ماحولیات کی تحقیق کے شعبوں میں کام کرنے والے سیکڑوں وفاقی ملازمین کو بے دخل کر دیا گیا۔
ان تمام اقدامات پر اعتراض کے حامل محققین، ڈاکٹر، طلبہ، انجینئر اور منتخب ذمے داران نیویارک، واشنگٹن، بوسٹن اور شکاگو جیسے بڑے شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ انھوں نے حالیہ اقدامات کو مسترد کر دیا جو ان کے نزدیک سائنس پر غیر معمولی نوعیت کا حملہ ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
واشنگٹن میں احتجاجیوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن میں کہا گیا کہ "امیروں کی نہیں بلکہ علم کی فنڈنگ کرو" اور "امریکا علم کی بنیاد پر قائم ہوا"۔
کئی محققین نے مالی اسکالر شپس اور دیگر سپورٹ کے مستقبل کے حوالے سے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا۔ بعض اسکالر شپس کو معطل کیے جانے کے سبب جامعات نے ڈاکٹریٹ پروگرام میں یا تحقیقی منصبوں پر قبول کیے جانے والے طلبہ کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔
اس سلسلے میں ان لوگوں کی تشویش واضح ہے جو ابھی تک اپنے کیرئر کے آغاز میں ہیں۔