’تجویز اچھی ہے‘ ۔۔۔۔ٹرمپ کی جانب سے محصوریوکرینی فوج پر’رحم‘ کی اپیل کےبعد ماسکوکا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین سے روسی سرحدی علاقے کرسک میں یوکرینی فوج کے لیے رحم کی اپیل کے چند گھنٹے بعد ماسکو نے جواب دیا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ کرسک میں محصور یوکرینی افواج کو ہتھیار ڈالنے کے لیے پوتین کی پیشکش درست ہے۔

وقت ختم ہو رہا ہے

تاہم انہوں ساتھ ہی خبردار کیا کئیف کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔

ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے صدر ولادی میرپوتین سے کہا تھا کہ وہ کرسک میں محصور یوکرینی افواج پر رحم کریں اور انہیں معاف کردیں۔ روسی افواج محصور یوکرینی یونٹوں کے خلاف مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں میدان جنگ کی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

پوتین نے تصدیق کی کہ انہوں نے روسی افواج کے محاصرے میں آنے والے یوکرینی فوجیوں کی جانوں کے لیے ٹرمپ کی معافی کی درخواست پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انھوں (یوکرینی فوجیوں) نے شہریوں کے خلاف جرائم کیے ہیں۔

لیکن ماسکو نے اشارہ کیا کہ ان کے لیے باہر نکلنے کا واحد راستہ ہتھیار ڈالنا ہے۔

یوکرین کی فوج نے تقریباً چھ ماہ قبل روسی صوبے پر حملہ کر کے روسیوں کو ایک دردناک دھچکا پہنچایا اور ماسکو کی شکست دی تھی۔

تاہم بعد میں روسی افواج اس شکست کی تلافی کرنے میں کامیاب ہوئیں اور اس ماہ (مارچ 2025) کے آغاز سے انہوں نے اس صوبے میں یوکرینی افواج کا محاصرہ کرتے ہوئے اور ان کی سپلائی لائنیں کاٹ دی تھیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں