Sudanese army members film themselves inside the presidential palace, after, according to the Sudanese army, they took the control of the presidential palace, in Khartoum, Sudan, March 21, 2025, in this screengrab obtained from a social media video. (Reuters)
سوڈانی فوج کا خرطوم کے وسط میں زیادہ تر اہم مقامات پر کنٹرول کا اعلان
سوڈان میں سرکاری فوج نے بتایا ہے کہ اس نے دار الحکومت خرطوم کے وسطی علاقے میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف لڑائی کے بعد مزید فوجی کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔
سوڈانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل نبیل عبداللہ نے بتایا کہ فوج نے علاقے میں زیادہ تر اہم ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان میں سوڈان کے مرکزی بینک کی عمارتیں اور سوڈان نیشنل میوزیم شامل ہے۔
سوڈانی فوج خرطوم شہر کے مغرب میں نئی پیش قدمی میں کامیاب رہی اور اس نے خرطوم میں جنرل انٹیلی جنس کے صدر دفتر کا کنٹرول واپس لے لیا۔
اس سے قبل سوڈانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اسے خرطوم کے وسط میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے سیکڑوں عناصر کو ختم کر دیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس طرح سوڈانی فوج نے دار الحکومت خرطوم کے مغربی نواحی علاقے المقرن پر اپنا کنٹرول پھیلا دیا ہے۔ یہ ایک اہم اور جلد سامنے آنے والی پیش رفت ہے۔
دوسری جانب ریڈ سی ملٹری ریجن کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل محجوب بشری نے سوڈانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ تفرقہ کو کچل کر جنگ کے خاتمے کے بعد ریاست کی تعمیر کے لیے تیار رہیں۔ پورٹ سوڈان میں فوج کے حامیوں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے بشری کا کہنا تھا کہ دار الحکومت خرطوم کو جلد ہی باغیوں سے پاک کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب سوڈانی خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے باور کرایا ہے کہ معرکہ جاری رہے گا اور سوڈان فوج ٹھوس بنیادوں پر پیش قدمی یقینی بنا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے کی پیش کش مسترد کرنے کے بعد ریپڈ سپورٹ فورسز کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
یاد رہے کہ سوڈانی فوج پندرہ اپریل 2023 کو جنگ چھڑنے کے بعد کل جمعے کے روز پہلی مرتبہ خرطوم میں ریپبلکن پیلس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی۔
سوڈانی فوج کے ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس نے ریپبلکن پیلس میں موجود ریپڈ سپورٹ فورسز کے عناصر اور عسکری ساز و سامان کو تباہ کر دیا اور اسلحہ برآمد کر لیا۔ مزید یہ کہ ریپبلکن پیلس کے علاوہ خرطوم کے وسط میں وزارتوں کی عمارتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خرطوم آپریشنز کے کمانڈر نے کہا کہ ریپبلکن پیلس کا آزاد کرایا جانا ایک "تاریخی لمحہ" ہے۔ انھوں نے کہا کہ خرطوم ایئرپورٹ جلد دوبارہ کام شروع کر دے گا۔
اپریل 2023 میں چھڑنے والی اس جنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور 1.2 کروڑ سے زیادہ افراد ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اسی طرح جنگ کے نتیجے میں بھوک اور نقل مکانی کے دنیا کے سب سے بڑے بحران نے جنم لیا۔
اس وقت ملک کا شمالی اور مشرقی حصہ سوڈانی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس نے خرطوم اور وسطی سوڈان کا بڑا رقبہ واپس لے لیا۔ دوسری جانب دارفور (مغرب) کے زیادہ تر حصوں اور جنوب کے کچھ حصوں پر ریپڈ سپورٹ فورس کا قبضہ ہے۔