زيلينسكي ، بوتين (تعبيرية - خاص العربية نت)

صدر پوتین سے براہِ راست ملاقات کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا: یوکرینی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتین سے براہِ راست ملاقات کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش صرف پوتین سے بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، کیونکہ صرف وہی اس پر عمل درآمد کا اختیار رکھتے ہیں۔

کیئف میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ "اگر جنگ بندی پر بات ہونی ہے تو صرف پوتین کرسکتے ہیں"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک اس ملاقات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔

زیلنسکی کو توقع ہے کہ اگر روس نے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھائی تو امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے اس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی، خصوصاً اگر استنبول میں طے شدہ بات چیت نہ ہوئی تو امریکہ کی روس کے حوالے سے پالیسی بدل سکتی ہے۔

جمعرات کو ممکنہ ملاقات، روس کی خاموشی

یوکرینی صدارتی مشیر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ صدر زیلنسکی صرف صدر پوتین سے براہِ راست ملاقات کریں گے اور روسی وفد کے دیگر افراد سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس ملاقات کی ممکنہ تاریخ جمعرات ہے اور یہ استنبول میں منعقد ہو سکتی ہے۔

اگرچہ زیلنسکی نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن روس کی جانب سے تاحال اس میں شرکت یا اس کی سطح کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

روسی شمولیت کے بغیر امن ناممکن

صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ماسکو مذاکرات کا حصہ نہیں بنتا، جنگ کا پرامن حل ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے زیلنسکی اور ان کی حکومت سے مفید بات چیت کی ہے اور برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سکیورٹی مشیروں سے بھی مشاورت کی ہے، مگر جب تک صدر پوتین اس معاہدے پر دستخط نہ کریں، کوئی بھی امن معاہدہ ممکن نہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ویٹکوف کے مطابق روس اور یوکرین دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ جنگ کا تسلسل کسی کے مفاد میں نہیں اور وہ حل کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں تمام فریقوں سے بات چیت کی ہدایت دی ہے تاکہ سب کے مؤقف کو سمجھا جا سکے اور براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

خونریز جنگ، لاکھوں بے گھر

واضح رہے کہ 2022 ءمیں شروع ہونے والی اس جنگ نے اب تک دسیوں ہزار افراد کی جان لے لی ہے اور لاکھوں شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

روسی فوج اس وقت یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے، جس میں 2014 میں قبضہ کی گئی کریمیا کی نیم خودمختار ریاست بھی شامل ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں