A man covered with a Palestinian flag and a chequerred kefiyeh flashes the V-sign of victory as a Tunisian crowd welcomes the Sumoud convoy, heading towards Gaza by land to break the siege on the war-battered territory, in the southeastern coastal Tunisian city of Ben Guerdane, near the Ras Jdir border point late on June 9, 2025, before the convoy's crossing into Libya. (AFP)

غزہ جانے والے سینکڑوں انسانی حقوق کارکنوں کا قافلہ تیونس سے لیبیا میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سینکڑوں انسانی حقوق کارکن اور غزہ میں زیر محاصرہ جنگ زدہ فلسطینیوں کے حامی شہریوں کا قافلہ تیونس کی سرحد کو عبور کر کے لیبیا میں داخل ہو گیا ہے۔ اس قافلے میں زیادہ تر تعداد تیونس کے شہریوں کی ہے۔ یہ قافلہ کئی بسوں پر مشتمل ہے۔

قافلے کے ایک منتظم کے مطابق ان شرکاء کی تعداد ایک ہزار تک ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ کارکن راستے میں بڑھتے جائیں۔ قافلہ پیر کی صبح تیونس سے روانہ ہوا تھا۔

قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ کوئی امدادی سامان لے کر نہیں جا رہے کیونکہ بسوں اور قافلے میں شامل دیگر گاڑیوں پر امدادی سامان نہیں لے جایا جا سکتا۔ ہمارا مقصد غزہ کے محاصرے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے اور عالمی برادری کی اس جانب توجہ مبذول کرانی ہے کہ غزہ کے جنگ زدہ لوگوں کے ساتھ سخت غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا ہے۔

یاد رہے اس قافلے میں 14 بسوں کے علاوہ ایک سو کے قریب دیگر گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ قافلے کے ارکان 'مزاحمت مزاحمت' کے نعرے لگاتے ہوئے سنے گئے۔

قافلے کے ترجمان نے 'ایف ایم ریڈیو چینل' سے بات کرتے ہوئے کہا 'قافلے کا لیبیا میں زیادہ دیر رکنے کا منصوبہ نہیں ہے۔ لیبیا میں تین یا چار دن کے سفر کے بعد یہ قافلہ مصر میں داخل ہوجائے گا۔ جہاں سے رفح راہداری تک پہنچے گا۔'

قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ابھی تک مصر میں داخلے کی اجازت کے حوالے سے مصری حکام نے آگاہ نہیں کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہمارے قافلے کا مقصد غزہ کے محاصرے کے خلاف علامتی طور پر آواز بلند کرنا ہے۔ جسے اقوام متحدہ نے زمین پر سب سے زیادہ بھوک زدہ جگہ قرار دیا ہے۔ اس قافلے میں الجیریا، موریطانیہ، مراکش اور لیبیا سے بھی انسانی حقوق کے کارکن اور شہری شامل ہوئے ہیں۔

اہم بات ہے کہ یہ قافلہ اس روز تیونس سے روانہ ہوا ہے جب پیر کی صبح اسرائیلی فوج نے سمندر میں 'فریڈم فلوٹیلا' کے سوار انسانی حقوق کارکنوں کو گریٹا تھنبرگ کی قیادت میں آنے پر گرفتار کر لیا۔ جسے تھنبرگ نے اغوا قرار دیا۔

ان کارکنوں میں سے 5 فرانسیسی کارکن اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اسرائیل سے ڈی پورٹ ہونے پر انکار کر دیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں